Tuesday , January 16 2018
Home / دنیا / ہندوستانی سیکولرزم ’کمزور‘ نہیں، فطرت کا تحفظ صدیوں قدیم روایت

ہندوستانی سیکولرزم ’کمزور‘ نہیں، فطرت کا تحفظ صدیوں قدیم روایت

برلن 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کا سیکولرزم ہندوستان اتنا کمزور نہیں کہ صرف یہ ایک زبان کی وجہ سے دہل جائے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے سرکاری زیرانتظام اسکولس میں جرمن زبان کی جگہ سنسکرت کی تدریس پر تنازعہ کا درپردہ حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کیا۔ وہ جرمنی میں مقیم ہندوستانی برادری کی جانب سے اُن کے اعزاز میں ترتیب دیئے ہوئے استقبال

برلن 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کا سیکولرزم ہندوستان اتنا کمزور نہیں کہ صرف یہ ایک زبان کی وجہ سے دہل جائے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے سرکاری زیرانتظام اسکولس میں جرمن زبان کی جگہ سنسکرت کی تدریس پر تنازعہ کا درپردہ حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کیا۔ وہ جرمنی میں مقیم ہندوستانی برادری کی جانب سے اُن کے اعزاز میں ترتیب دیئے ہوئے استقبالیہ سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ برسوں پہلے جرمن ریڈیو سے سنسکرت میں خبر نامہ نشر کیا جاتا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان میں اُس دور میں سنسکرت میں کوئی خبر نامہ نہیں تھا کیونکہ غالباً یہ سمجھا جاتا تھا کہ سیکولرزم خطرہ میں پڑجائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان کا سیکولرزم اتنا کمزور نہیں ہے کہ صرف ایک زبان کی وجہ سے دہل جائے۔ ہر شخص میں خود اعتمادی ہونی چاہئے اور خود اعتمادی غیر متزلزل ہوتی ہے۔ اُنھوں نے اپنے درپردہ تبصرہ کی وضاحت نہیں کی لیکن اِس کی اہمیت ہے کیونکہ چند ماہ قبل کیندریا ودیالیہ اسکولس میں تیسری زبان کی حیثیت سے جرمن کی جگہ سنسکرت کی تدریس نے لے لی ہے، جس پر ایک تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔

اُنھوں نے عالمی حدت کے سلسلہ میں ہندوستان پر ترقی یافتہ ممالک کے اعتراض کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں گیسیس کا اخراج کا اوسط اقل ترین ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آئندہ تبدیلی ماحولیات کانفرنس کا ایجنڈہ ہندوستان طے کرے گا جو آئندہ سپٹمبر میں فرانس میں منعقد ہوگی۔ اُنھوں نے اظہار حیرت کیاکہ دنیا ہندوستان کی سرزنش کررہی ہے حالانکہ یہاں گیسوں کا اوسط اخراج اقل ترین ہے۔ وہ کل رات ہندوستانی برادری کے اُن کے اعزاز میں ترتیب دیئے ہوئے استقبالیہ سے خطاب کررہے تھے۔ فطرت کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ صدیوں سے ہندوستانی رسوم و رواج میں فطرت کا تحفظ شامل ہے جبکہ پوری دنیا ہم پر اعتراضات کررہی ہے۔ جن لوگوں نے ماحولیات کو تباہ کیا ہے وہ ہم پر اعتراض کرتے ہیں۔ اگر کسی نے فطرت کی خدمت کی ہے تو وہ ہندوستانی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تبدیلیٔ ماحولیات کے سلسلہ میں معاہدہ کی راہیں ہندوستان ہی کھولے گا۔

وزیراعظم نے کہاکہ آئندہ فریقین کی کانفرنس برائے تبدیلیٔ ماحولیات کے ایجنڈہ کا تعین ہندوستان ہی کرے گا جو سپٹمبر میں پیرس میں مقرر ہے۔ ہندوستان کے رسوم و رواج کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہاکہ یہ واحد ملک ہے جس نے فطرت کی انتہائی خدمت کی ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان میں دریا کو ماں کہا جاتا ہے اور درختوں کی پوجا تک کی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ عالمی حدت کے بحران کا حل ہندوستان کے رسوم و رواج میں موجود ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ صرف ہم میں خود اعتمادی ہونی چاہئے۔ اُنھوں نے ہندوستانی برادری سے کہاکہ وہ اِس سلسلہ میں اپنا حصہ ادا کریں۔ ساتھ ہی اُنھوں نے کہاکہ تبدیلی ماحولیات کی وجہ سے عالمی حدت کے مسئلہ کی ہندوستان یکسوئی چاہتا ہے۔ اِس سلسلہ میں اُنھوں نے حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کیا جو قابل تجدید اور صاف ستھری برقی توانائی 175 ڈیگا واٹس تک پیدا کررہا ہے۔ ایک ڈیگا واٹ ایک ہزار میگاواٹ کے مساوی ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT