Tuesday , September 25 2018
Home / سیاسیات / ہندوستانی عوام مودی پر بھروسہ کیسے کریں؟

ہندوستانی عوام مودی پر بھروسہ کیسے کریں؟

2002ء گجرات فسادات میں رول پر کانگریس کی لعن طعن

2002ء گجرات فسادات میں رول پر کانگریس کی لعن طعن
نئی دہلی ، 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی کو پھر ایک بار کانگریس نے اپنے تیر و نشتر کا نشانہ بناتے ہوئے ایک برطانوی اخبار کے حوالے سے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ امیدوار کو ’’انتشار پسند شخص سے کہیں بڑھ کر‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ دنیا کو ’’اُن پر بھروسہ نہیں ہے‘‘۔ اپنی ویب سائٹ پر پارٹی نے کہا، ’’دی گارڈین اخبار مودی کے ترقیاتی ماڈل کی صداقت پر سوال اٹھاتا ہے اور مودی پر 2002ء کے گجرات فسادات میں اُن کے رول کیلئے لعن طعن کرتا ہے،‘‘ جس کے ساتھ 7 اپریل کے ایڈیشن میں شائع آرٹیکل کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا ہے کہ ’’مودی انتشار پسند شخص سے کہیں زیادہ ہیں‘‘۔ وہی شخص ہے جس پر آزاد ہندوستان میں دیکھے گئے بعض بدترین مدہبی تشدد کی ذمے داری عائد ہوتی ہے،‘‘ پارٹی نے ان ریمارکس کے ساتھ عوام سے سوال کیا …

’’دنیا کو مودی پر بھروسہ نہیں ہے، کیا آپ کو ہے؟‘‘ اخبار کا آرٹیکل بعنوان ’’مودی، قتل عام سے رنگے اپنے ہاتھوں کے ساتھ ہندوستان کیلئے معقول انتخاب نہیں ہے‘‘ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ چیف منسٹر گجرات ’’آزاد ہندوستان میں دیکھے گئے بدترین فسادات کیلئے ذمے دار‘‘ ہیں۔ یہ تازہ ترین لفظی حملہ اس کے فوری بعد سامنے آیا ہے کہ کانگریس نے سابق وزیراعظم اور بی جے پی لیڈر اے بی واجپائی کی ستائش کرتے ہوئے مودی کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے تو یہاں تک دعویٰ کردیا کہ بی جے پی کا کوئی بھی لیڈر واجپائی کے قد کی برابری نہیں کرسکتا، اور ساتھ ہی 2002ء کے فسادات کے دوران مودی کے ریکارڈ پر سوال اٹھایا ہے۔ ’’کس طرح ایسا شخص جو چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنے ’راج دھرم‘ میں ناکام ہوگیا کبھی بھی ہندوستان کے عوام کیلئے پُرامن اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنا سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT