Tuesday , December 11 2018

ہندوستانی قیادت کی مذمت کی قرارداد پاکستانی سینیٹ میں منظور

اسلام آباد ۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے ڈھاکہ میں تبصرہ پر تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے پاکستانی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں وزیراعظم ہند نریندر مودی کے بیان کو ’’غیرذمہ دارانہ اور غیرمدبرانہ‘‘ اور ہندوستان کی ’’اجارہ دارانہ ذہنیت کا عکاس‘‘ قرار دیا گیاہے۔ پاکستان کے قائدین نے بنگلہ د

اسلام آباد ۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے ڈھاکہ میں تبصرہ پر تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے پاکستانی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں وزیراعظم ہند نریندر مودی کے بیان کو ’’غیرذمہ دارانہ اور غیرمدبرانہ‘‘ اور ہندوستان کی ’’اجارہ دارانہ ذہنیت کا عکاس‘‘ قرار دیا گیاہے۔ پاکستان کے قائدین نے بنگلہ دیش میں نریندر مودی کے حالیہ تبصرے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ہندوستان میں گڑبڑ پیدا کررہا ہے اور دہشت گرد کارروائیوں پر اکسا رہا ہے۔ قرارداد قائد ایوان راعبہ ظفرالحق نے پیش کی، جس میں کہا گیا ہیکہ ہندوستان کی جانب سے اس قسم کی ’’غیرمہذب‘‘ کوششیں ناقابل قبول ہیں اور پاکستان ’’اجارہ دارانہ ذہنیت‘‘ کو مسترد کردیا ہے۔ اس قرارداد میں ہندوستانی قائدین کی جانب سے اشتعال انگیز اور دشمنی پر مبنی بیانات کی مذمت کی گئی ہے اور پاکستانی سرزمین پر حملوں کی دھمکیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہیکہ پاکستانی پارلیمنٹ کا ایوان بالا کبھی اپنی سرزمین کو ہندوستان کی خلاف ورزی کا شکار بننے کی اجازت نہیں دے گا چاہے اس کا کوئی بھی جواز پیش کیا جائے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے میانمار میں فوجی کارروائی کے پیش نظر کہا تھا کہ یہ دیگر ممالک کے سامنے بھی ایک پیغام ہے۔ اس کی تاویل پاکستان نے انتباہ کے طور پر کی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہیکہ پاکستانی افواج کسی بھی دراندازی کا منہ توڑ جواب دینے کے قابل ہیں اور پاکستانی عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ہندوستان کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہیکہ یہ بیانات پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے ہندوستانی عزائم کے بارے میں پاکستان کے اندیشوں کی توثیق کرتے ہیں۔ ایوان بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہیکہ ایسے اشتعال انگیز بیانات علاقائی امن، خودمختاری اور استحکام پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہندوستانی سیاسی قیادت کے بیانات ’’غیر ذمہ دارانہ اور غیرمدبرانہ ہیں‘‘ اور عہد کیا کہ وہ اپنے ملک کے اہم مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ وہ پاکستانی سفیروں کے ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات ماحول کو زہریلا بنا دیتے ہیں اور دونوں ممالک کو علاقائی امن اور استحکام کے مقصد سے دور کردیتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ یہ پیغام بلند آواز سے اور واضح طور پر دینا چاہتے ہیں کہ ’’پاکستان اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنی اعلیٰ اخلاقی بنیادوں سے ترک تعلق نہیں کرے گا۔ حالانکہ اسے مشتعل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک پرامن پڑوسی کے طور پر رہنے کی اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ تاریخ کے صفحات میں بالائے طاق نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک کی جانب سے دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی سرپرستی ایک محفوظ اور خوشحال پکستان کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT