Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ہندوستانی مسلح فورسیس کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کی اہل

ہندوستانی مسلح فورسیس کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کی اہل

1962ء جنگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ، کشمیر کے مقبوضہ علاقہ کو واپس حاصل کرنا ہر ہندوستانی کی خواہش: ارون جیٹلی
نئی دہلی۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چین کے ساتھ سرحدی تعطل کے دوران وزیر دفاع ارون جیٹلی نے آج کہا کہ ہندوستانی مسلح فورسیس اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ ملک کی سلامتی کو درپیش کسی بھی چیلنج کا سامنا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1962ء جنگ سے ہم نے سبق سیکھا ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ ملک کے عوام کی یہ عین خواہش ہے کہ جموں و کشمیر کے اُن حصوں کو واپس حاصل کیا جائے جن پر پاکستان 1948ء سے قابض ہے۔ 1942ء میں گاندھی جی کی شروع کی گئی ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ تحریک کے 75 سال کی تکمیل کے موقع پر آج خصوصی مباحث کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دہوں میں ہندوستان نے کئی چیلنجس کا سامنا کیا ہے، لیکن ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہر چیلنج کے ساتھ ہمارا ملک اور بھی زیادہ مضبوط ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 1962ء میں چین کے ساتھ جنگ سے ہم نے سبق سیکھا ہے اور مسلح فورسیس اپنے بل پر کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہندوستان کو ہمارے پڑوسی ممالک سے چیلنجس درپیش ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ 1962ء کے مقابلے مسلح فورسیس1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں زیادہ طاقتور ثابت ہوئیں۔ 1962ء میں ہندوستان کو چین کی مسلط کردہ جنگ کا سامنا کرنا پڑا اور اسے کافی نقصان ہوا، لیکن 1965ء اور 1971ء میں پاکستان کی مسلط کردہ جنگ میں ہندوستان کامیاب رہا۔

ارون جیٹلی نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اب بھی ہمیں بعض چیلنجس درپیش ہیں۔ بعض لوگ ہمارے ملک کی سالمیت اور یکجہتی کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن انہیں ہمارے بہادر سپاہیوں کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ مسلح فورسیس ملک کی سلامتی کیلئے کسی بھی طرح کی قربانی دے سکتی ہیں۔ وزیر دفاع کا یہ پیام چین کے ساتھ ڈوکلام سرحد پر دو ماہ سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اگرچیکہ چین کا تذکرہ نہیں کیا لیکن ان کا اشارہ واضح طور پر اسی کی طرف تھا۔ انہوں نے آزادی کی فوری بعد پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے بعض حصوں پر قبضہ کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے فوری بعد ہمیں بحران درپیش تھا۔ ہمارے پڑوسی ملک کی نظر کشمیر پر تھی۔ آج بھی ہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کرسکتے کہ ملک کا حصہ الگ ہوچکا ہے۔ ہر ہندوستانی کی یہ خواہش ہے کہ کسی بھی طرح اس حصہ کو واپس حاصل کیا جاسکے۔ ارون جیٹلی نے جو قائد راجیہ سبھا ہیں، کہا کہ آج کا دن ہندوستان کو طاقتور بنانے کے عہد کا دن ہے۔ انہوں نے ملک کو ہر طرح کے تشدد خواہ وہ دہشت گردی ، سیاست یا مذہب کے نام پر ہو، پاک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جیٹلی نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی اور بائیں بازو انتہا پسندی سے چیلنج درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسیس نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ مختلف مذاہب اور ذاتیں ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور انہوں نے ملک میں ہم آہنگی کی برقراری کو اہم قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT