Friday , December 15 2017
Home / دنیا / ہندوستانی نژاد امریکی شہری ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیں گے

ہندوستانی نژاد امریکی شہری ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیں گے

دوسرے انتخابی مباحثہ میں ٹرمپ کے خواتین کیخلاف ریمارکس نے پانسہ پلٹ دیا
کلیولینڈ (یو ایس) ۔ 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہزاروں ہندوستانی نژاد امریکی شہری جو یہاں سکونت پذیر ہیں، وہ اسی پس و پیش میں ہیں کہ 8 نومبر کو منعقد شدنی انتخابات میں ووٹ  کس امیدوار کے حق میں دیا جائے جبکہ اکثریت کا رجحان ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کی جانب ہے اور ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے خواتین اور امیگریشن کے تعلقات سے حالیہ دنوں میں جو بھی بیانات دیئے ہیں، اس نے ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو ٹرمپ کے امریکہ کی معیشت کو مستحکم کرنے، دہشت گردی کا خاتمہ کرنے اور امیگریشن سے متعلق اعلان کردہ پالیسیوں کے حامی ہیں جس کیلئے وہ یہ استدلال پیرش کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کو ووٹ دینا اوباما انتظامیہ کو مزید چار سال کیلئے برسراقتدار لانے کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا و ہلاری کلنٹن کو ووٹ دینا نہیں  چاہتے۔ تاہم ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں خواتین سے متعلق جو بیہودہ اور لغو بیانات دیئے اس نے ٹرمپ کیلئے نرم گوشہ رکھنے والوں کو بھی خوفزدہ کردیا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر ٹرمپ کو ووٹ دیا گیا تو امریکہ میں ڈکٹیٹر شپ کے قیام کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی دوران انڈو۔ امریکن کمیونٹی کی جانی مانی شخصیت ستیش پاریکھ نے ٹرمپ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے (ٹرمپ) پاس امریکہ جیسے ملک میں حکمرانی کرنے کیلئے درکار کردار و اقدار کا فقدان ہے۔ ستیش پاریکھ یہاں گذشتہ 30 سال سے مقیم ہیں۔ انہوں نے صدارتی انتخابات کی مہم کے آغاز میں خود کو ٹرمپ کے قریب تر محسوس کیا تھا۔ تاہم جیسے جیسے پرائمریز کا سلسلہ جاری رہا اور دوسرے صدارتی  مباحثہ میں جب انہوں نے ہلاری کلنٹن کو جیل بھیجنے اور انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کی بات کہی تو اس سے ٹرمپ کا جادو ٹوٹ گیا لہٰذا مسٹر پاریکھ اب خود پس و پیش میں ہیں کہ وہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ ’’بہرحال ہم اگر ٹرمپ کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہلاری کے حامی ہیں۔ اگر ٹرمپ کی جگہ کوئی بہتر ری پبلکن امیدوار ہوتا تو میں اسے ہی ووٹ دیتا، ہلاری کو ہرگز نہ دیتا‘‘۔ یہ بات یہاں کے ایک 30 سالہ پرانے تاجر دھول چوکسی نے کہی۔ چوکسی کے والد حکومت گجرات کی ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد 68 سال کی عمر میں امریکہ آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور امیگریشن سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیاں معقول ہیں لیکن تاہم جمہوریت سے متعلق ٹرمپ کا جو موقف ہے اس سے ڈکٹیٹر شپ کی بو آتی ہے اور یہی وجہ ہیکہ یہاں کی کمیونٹی کے عوام ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ یاد رہیکہ کلیولینڈ اور اس کے اطراف و اکناف کے مضافات میں زائد از 30,000 ہندوستانی نژاد امریکی شہری آباد ہیں جو مختلف شعبہ حیات جیسے تجارت، تدریس اور ریسرچ سے وابستہ ہیں۔ ہندوستانی نژاد امریکی خواتین بھی دوسرے صدارتی مباحثہ سے پہلے تک ٹرمپ کی حامی تھیں تاہم خواتین سے متعلق ٹرمپ نے جو مخرب اخلاق بیانات دیئے اس کے بعد ہندوستانی نژاد امریکی خواتین بھی ٹرمپ کو ووٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ میناسیٹھی نامی ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے صدارتی مباحثہ بہ  نفس نفیس سماعت کیا تھا اور جو کچھ ٹرمپ نے خواتین کے متعلق جس میں حیرت انگیز طور پر خود ان کی (ٹرمپ) بیٹی کا بھی تذکرہ کیا گیا تھا، جو کچھ بھی کہا وہ ناقابل یقین ہے۔

TOPPOPULARRECENT