Tuesday , December 12 2017
Home / دنیا / ہندوستانی نژاد یہودیوں کیلئے یہودی تہذیبی ورثہ کے ٹورس

ہندوستانی نژاد یہودیوں کیلئے یہودی تہذیبی ورثہ کے ٹورس

چیف منسٹر مہاراشٹرا کا بھی اقدامات کا اعلان ‘ کوچین کے دو صومعوں کی تزئین و آرائش

رملہ (اسرائیل ) ۔16اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اپنے ملک میں یہودی تہذیبی ورثہ کے مقامات کو فروغ دے رہا ہے ۔ ہندوستان کے سفیر برائے اسرائیل نے ہندوستانی نژاد نوجوان یہودیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے آباواجداد کی سرزمین کا سفر کریں اور ہند۔ اسرائیل باہمی تعلقات کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرنے کے علاوہ اپنی بنیادوں سے بھی ربط استوارکریں ۔ ہندوستان کے سفیر برائے اسرائیل جئے دیپ سرکار نے کہا کہ وہ پوری دنیا کو فخریہ انداز میں یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں یہودیوں کی زندگی یہودی تہذیبی ورثاء کی حفاظت کیلئے اُن کی جدوجہد کو اُجاگر کیا جارہا ہے ۔ ہندستان کو امید ہے کہ ایک پیکیج ٹور ممبئی میں یہودی تہذیبی ورثاء کے مقامات اور ملک کے دیگر مقامات کیلئے آئندہ سال کے اوائل میں تیار کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں 3500 ہندوستانی نژاد یہودی موجود ہیں اور انہوں نے اسرائیل میں ہندوستانی یہودیوں کے تیسرے قومی کنونشن تقاریب میں شرکت کی ہے ۔ جاریہ سال کے اوائل میں چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرڈنویز نے اسرائیل کے دورہ کے موقع پر کہا تھا اُن کی حکومت یہودی تہذیبی ورثاء کے مقامات کی ریاست گیر سطح پر تحفظ کے اقدامات کرے گی ‘ کیونکہ اس سے سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت سال 2017ء تک ’’ ویزٹ مہاراشٹرا سال ‘‘ منانے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ اُس وقت تک سیاحت کیلئے کئی علاقہ تیار کئے جائیں گے ۔

انہوں نے احساس ظاہر کیا کہ سابق یہودی تہذیبی ورثاء کا احیاء کرنے سے کئی سیاح وہاں کا سفرکریں گے ۔ کوچین میں چنامنگلم اور پراوور کے صومعوں کو حال ہی میں تزئین و آرائش سے سجایا گیا ہے اور 25ہزار کوچینی یہودیوں کیلئے جو اسرائیل میں مقیم ہیں پُرکشش مقام ثابت ہوں گے ۔ اس برادری کے ارکان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنی مالا مال روایات آئندہ نسلوں تک پہنچائیں ۔ ہندوستانی سفیر نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کئی اسکیموں کا آغاز کیا ہے جن میں ای ویزا اور ہندوستان سے واقفیت پروگرام برائے ہندستانی نژاد اطفال شامل ہے ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے اور واجبی قیمت میں ہندوستان شعبہ سائنس ‘ انجنیئرنگ اور طب کی تعلیم حاصل کی جائے جن کی ڈگریوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT