Saturday , December 15 2018

ہندوستانی ٹیم میں نئے بولرس کی ضرورت : ویراٹ کوہلی

سڈنی۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان گزشتہ روز ختم شدہ چار ٹسٹ میچوں کی سیریز دراصل مسطح پچس پر مبنی تھی اور دونوں ہی ٹیمیں رنز بنانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔ اس سیریز میں دونوں ٹیموں نے 5800 رنز بنایا جو چار 4 ٹسٹ میچوں کی سیریز میں ایک عالمی ریکارڈ بھی ہے۔ اس پچ پر دونوں ہی ٹیموں کے بولرس کو سخت دشواریوں ک

سڈنی۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان گزشتہ روز ختم شدہ چار ٹسٹ میچوں کی سیریز دراصل مسطح پچس پر مبنی تھی اور دونوں ہی ٹیمیں رنز بنانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔ اس سیریز میں دونوں ٹیموں نے 5800 رنز بنایا جو چار 4 ٹسٹ میچوں کی سیریز میں ایک عالمی ریکارڈ بھی ہے۔ اس پچ پر دونوں ہی ٹیموں کے بولرس کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستانی بولرس سخت جدوجہد کے باوجود اس سیریز کی کسی بھی اننگز میں بیک وقت 20 وکٹس حاصل نہیں کرسکے۔ برسبین کے سوا ہر ٹسٹ میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیتا تھا۔ ہندوستانی بیٹسمین نے 500 یا اس سے زائد ان کے اسکور کے جواب میں ہمیشہ 400 یا اس سے زائد رنز بنایا۔ بولنگ حملے میں کمزور ہی دراصل ہندوستانی ٹیم کی 2 کے مقابلے صفر سے ناکامی کا سبب رہی جس پر کپتان ویراٹ کوہلی مایوس و برہم ہیں۔ انہوں نے بولنگ کے شعبہ میں بولنگ کی جدید صلاحیتوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کوہلی نے کہا کہ ’’ٹیم کے ایسے بولرس جو مستقبل میں بہتر کھیل کی صلاحیتیں رکھتے ہیں، انہیں اپنی فٹنس میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس صورت میں ہی ہماری ٹسٹ ٹیم مستحکم ہوسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ٹسٹ میچ جیتنے کیلئے ہمیں 20 وکٹس حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

اور اپنے گھریلو گراؤنڈس پر ہمارے بہتر مظاہرہ کی وجہ یہی ہے کہ یہاں ہم اتنے وکٹس حاصل کرسکتے ہیں۔ اسپنرس نے یقیناً اچھی بولنگ کی تھی۔ فاسٹ بولرس بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ گھریلو گراؤنڈس پر کیسی بولنگ کی جائے‘‘۔ ٹیم کے انتہائی تجربہ کار بولر ایشانت شرما اپنے معیارات کے مطابق اچھی سیریز کھیلے ہیں لیکن وکٹ لینے سے متعلق انہیں کی صلاحیتیں مشکوک رہیں۔ اومیش یادو، محمد شامی اور ورون آرون اچھی بولنگ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے اور بے تحاشہ رنز دیتے رہے۔ اس مظاہرہ پر کپتان کوہلی اور مہیندر سنگھ دھونی نے مایوس کا اظہار کیا ہے۔ کوہلی نے اب تجویز پیش کی ہے کہ فٹنس کی سطح بھی ایک عنصر ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ونڈے انٹرنیشنل میچوں میں عموماً ہم اچھا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ محدود وقت میں کیسے بولنگ کی جائے لیکن ٹسٹ میں اس بات پر کوئی پابندی نہیں رہتی چنانچہ اگر پانچ اوورس ناقص رہیں تو سارا کھیل بدل سکتا ہے‘‘، لیکن اس سیریز کے آغاز سے قبل کوہلی نے کہا تھا کہ ’’بعض افراد ہمارے بولرس کے بارے میں سخت خیالات رکھتے ہیں حالانکہ وہ (بولرس) نوجوان ہیں اور یہ نوجوانوں کی ٹیم ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT