Friday , January 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستانی ٹیم کی بیٹنگ لائین اپ میں گہرائی نہیں : کپتان دھونی

ہندوستانی ٹیم کی بیٹنگ لائین اپ میں گہرائی نہیں : کپتان دھونی

اڈیلیڈ 7 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی کرکٹ ٹیم حالیہ عرصہ میں بولرس کے ناقص مظاہرہ کی وجہ سے مسائل کا شکار رہی ہے تاہم کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے آج کہا کہ ہندوستانی بیٹنگ لائین اپ میں بھی اتنی گہرائی نہیں ہے جتنی دوسری ٹیموں میں ہے جو ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہیں۔ ورلڈ کپ کا آئندہ ہفتے آغاز ہونے والا ہے ۔ دھونی نے کہا کہ ان کی ٹیم ک

اڈیلیڈ 7 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی کرکٹ ٹیم حالیہ عرصہ میں بولرس کے ناقص مظاہرہ کی وجہ سے مسائل کا شکار رہی ہے تاہم کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے آج کہا کہ ہندوستانی بیٹنگ لائین اپ میں بھی اتنی گہرائی نہیں ہے جتنی دوسری ٹیموں میں ہے جو ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہیں۔ ورلڈ کپ کا آئندہ ہفتے آغاز ہونے والا ہے ۔ دھونی نے کہا کہ ان کی ٹیم کو اپنے میچس میں آخری اوورس میں زیادہ سے زیادہ رنز اسکور کرنے کیلئے اپنی وکٹیں بچانی ہونگی کیونکہ بیٹنگ لائین اپ زیادہ گہرائی اور گیرائی والی نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیٹنگ آرڈر کو میچس کیلئے پہلے سے طئے نہیں کیا جائیگا بلکہ صورتحال کے مطابق اس کو بدلا جائیگا ۔دھونی نے ورلڈ کپ سے قبل کھلے میڈیا سشن میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب بیٹنگ کرتے ہیں تو ہمارے پاس اتنی گہرائی نہیں ہے ۔ وکٹوں کو بچائے رکھنا ہماری طاقت ہے اور جب ہمارے پاس وکٹیں بچی ہونگی تو پھر ہم صورتحال کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

آپ کو ایسی صورتحال میں حالات کے مطابق اپنی مرضی سے رنز اسکور کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے ۔ آپ کو صورتحال کے مطابق بیٹنگ آرڈر میں بھی تبدیلی کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی ۔ ورلڈ کپ کا 14 فبروری کو ملبورن اور کرائسٹ چرچ میں آغاز ہو رہا ہے ۔ بیٹنگ روایتی طور پر ہندوستان کی طاقت رہی ہے ۔ اور اسی کے ذریعہ ہندوستان کو اپنے امکانات کا دفاع کرنا ہوگا کیونکہ بولرس زیادہ تر جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں۔ دھونی کا یہ کہنا کہ ہندوستان کے پاس دوسری ٹیموں کی طرح بیٹنگ میں گیرائی نہیں ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کو 2011 کے خطاب کا دفاع کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ مڈل آرڈر میں بیٹنگ اور بولنگ اس ٹورنمنٹ میں ہندوستان کی کامیابی میں اہم رول ادا کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ کہ مڈل آرڈر میں صورتحال کے مطابق کارکردگی دکھائی جائے ۔

مڈل آرڈر میں بولنگ بھی اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ اس کے نتیجہ میں اپوزیشن پر دباؤ ڈالا جاسکے گا اور مخالف ٹیم کو 35 ویں اوور تک زیادہ تیزی اور آسانی کے ساتھ رنز اسکور کرنے کا موقع نہ مل سکے ۔ ہم کو سلاگ اوورس میں بہتر بولنگ کرنے کا موقع زیادہ دستیاب نہیں ہوسکتا اور یہ صورتحال ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد پیش آسکتی ہے ۔ ورلڈ کپ سے قبل ہندوستان کی کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں رہی ہے کیونکہ اسے آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ سیریز میں 0 – 2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اسے بعد میں سہ رخی سیریز میں بھی کوئی کامیابی نہیں مل سکی تھی ۔ تاہم دھونی کا کہنا ہے کہ یہ یادیں ٹیم انڈیا کیلئے پریشانی کا باعث نہیں ہیں کیونکہ ہندوستانی ٹیم اب اچھے مظاہرہ کے تئیں پرامید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی چمپئنس ٹرافی میں کھیلتے ہوئے بھی ہمیں ابتداء میں مشکل صورتحال کا سامنا تھا

تاہم ٹورنمنٹ کے دوران کھلاڑیوں نے اچھا مظاہرہ کیا اور ہم نے استقلال سے مظاہرہ کیا اور یہی بات معنی رکھتی ہے ۔ روایتی حریف پاکستان کے خلاف ہونے والے میچ کے تعلق سے سوال پر دھونی نے کہا کہ اڈیلیڈ اوول میں ہونے والا میچ کرکٹ کا افتتاحی مقابلہ ہے اور اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہند ۔پاک میچس کے تعلق سے عوام کے مختلف نظریات ہوتے ہیں۔ وہ اس میچ کو اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح آسٹریلیا کے خلاف یا سری لنکا کے خلاف یا کسی اور دوسری ٹیم کے خلاف میچ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور افغانستان کے خلاف ہندوستان کے دو وارم اپ میچس ہیں اور یہ دونوں اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان دونوں میچس سے ہندوستان کو پاکستان کے خلاف کھیلنے کیلئے خود کو تیار کرنے کا موقع ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم انڈیا آسٹریلیا میں آتی رہی تھی اور اس کی وجہ سے اسے یہاں کے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد ملے گی ۔ اس سے ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے ۔ دھونی نے میزبان ٹیم آسٹریلیا کے تعلق سے کہا کہ آسٹریلیا کو اس بار ورلڈ کپ جیتنے آسان نہیں ہوسکتا ۔ اسے سخت مسابقت اور مقابلہ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس ورلڈ کپ میں بیشتر ٹیمیں اچھی اور متوازن ہیں ۔ یہ ایک بہت خصوصی ورلڈ کپ ہوگا اور تمام ٹیموں کو اچھی جدوجہد اور مقابلہ کرنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT