Tuesday , December 12 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستانی ہاکی لیجنڈ ، سابق کپتان محمد شاہد کا انتقال

ہندوستانی ہاکی لیجنڈ ، سابق کپتان محمد شاہد کا انتقال

نئی دہلی ۔20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام )ہندوستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد شاہد 56 برس کی عمر میں آج دہلی میں انتقال کر گئے ہیں۔ شاہد کا تعلق بنارس سے تھا اور وہ ایک عرصے سے گردوں اور پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔ شاہد نے آج صبح 10:45 کو آخری سانس لی ۔چند روز قبل انھیں علاج کے لئے بنارس سے دہلی منتقل کیا گیا تھا اور آج انہوں  نے یہاں اپنی آخری سانس لی۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ پروین شاہد، ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔  1970 اور 80 کے دہے محمد شاہد کی صلاحتوں کی طوطی بولتی تھی۔ میدان میں شاہد کی چستی اور ’جادوئی‘ ڈربلنگ نے انھیں بہت کم عمر میں ہی اسٹار بنا دیا تھا۔ ظفر اقبال اور شاہد کے بعد ہندوستان کی ہاکی ایک عرصے تک زوال پزیر رہی۔بطور فارورڈ کھیلنے والے شاہد 1980 کے ماسکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے رکن تھے اور اس کے پانچ سال بعد انھیں ہندوستانی ٹیم کی کپتانی کرنے کا بھی اعزاز ملا۔ ماسکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم میں سابق کپتان ظفر اقبال بھی شامل تھے۔ حال ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ شاہد ایک عظیم کھلاڑی تھے، ہم نے گولڈ میڈل بڑی حد تک انھیں کی بدولت جیتا تھا،

وہ اتنے تیز رفتار تھے کہ حریف ٹیمیں انھیں مارک کرنے کیلئے دو کھلاڑیوں کو کام پر لگاتی تھی، لیکن ان کے کھیل میں وہ جادو تھا کہ انھیں کوئی روک نہیں پاتا تھا۔ میں چاہ کر بھی ویسا نہیں کھیل سکتا تھا۔ شاہد ریلویز کے ملازم تھے لیکن ہاکی کو خیر باد کہنے کے بعد انھوں نے اپنی باقی زندگی گمنامی میں ہی گزاری۔ وہ بڑے اسٹار بنے لیکن کبھی انکساری کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کے سابق کپتان بھاسکرن نے ان کے بارے میں لکھاکہ جب میں نے انھیں پہلی مرتبہ دیکھا تو وہ بہت شرمیلے تھے، لیکن اس وقت وہ بہت چھوٹے تھے۔ یہ 1979 کی بات تھی جب شاہد کو ٹیم کے ساتھ ملائیشیا بھیجا گیا تھا اور اسی ٹورنمنٹ کے بعد یہ کہا جانے لگا تھا کہ چھوٹے سے قد کا یہ نوجوان ہی ہندوستانی ہاکی کا مستقبل ثابت ہوگا۔ ہاکی کے ماہرین مانتے تھے کہ شاہد خدا داد صلاحیت کے مالک تھے، اور ان کے کھیل کا انداز کچھ ایسا تھا کہ کسی کوچنگ اکیڈمی میں نہیں سکھایا جاسکتا۔ ان سے بال چھیننا مشکل تھا اور ان کے ’ڈاج‘ سے دفاعی کھلاڑی پریشان رہتے تھے۔ ملائیشیا میں پاکستان کے خلاف میچ کا ذکر کرتے ہوئے بھاسکر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میچ کے بعد پاکستان کے سینٹر ہاف اختر رسول میرے پاس آئے اور کہا ’’یہ لڑکا کون ہے؟۔۔۔ بہت ڈاج مارتا ہے۔‘‘ اس ٹورنمنٹ میں شاہد کو بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

TOPPOPULARRECENT