Sunday , December 17 2017
Home / دنیا / ہندوستان ، پیرس ماحولیات معاہدہ کے علاوہ بھی جدوجہد کیلئے تیار

ہندوستان ، پیرس ماحولیات معاہدہ کے علاوہ بھی جدوجہد کیلئے تیار

وزیر خارجہ سشما سوراج کا اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران علیحدہ ماحولیات چوٹی کانفرنس سے خطاب
اقوام متحدہ۔ 20 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج ایک بار پھر سنگ میل پیرس تبدیلی ماحولیات معاہدہ کے پابند ہونے کا اعادہ کیا اور کہا کہ سبز مکانی گیاسوں کے اخراج میں کمی کے معاہدہ ’’کے علاوہ بھی مزید جدوجہد‘‘ کرنے کیلئے تیار ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ کی قیادت چوٹی کانفرنس برائے ماحولیات معاہدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ماحولیات اور ترقی کے مباحثہ میں ہمیشہ آگے آگے رہا ہے۔ ان کے تبصرے ، معاہدے میں امریکہ کے غیریقینی کردار کے دوران منظر عام پر آئے ہیں کیونکہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ جون میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ ، پیرس معاہدہ سے دستبردار ہورہا ہے۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ اس معاہدہ سے ہندوستان اور چین جیسے ممالک کو غیرمستحقہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا کاربن آلودگی پیدا کرنے والا ملک ہے۔ دنیا میں 190 سے زیادہ ممالک نے ڈسمبر 2015ء میں معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ ان کا مقصد عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کا انسداد اور اسے 2 درجہ سیلسیس سے کم برقرار رکھنا تھا۔ یہ معاہدہ 1997ء کے کیوٹا پروٹوکول کا جانشین تھا جسے گزشتہ اکتوبر میں منظوری دی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے میزبان سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس تھے۔ اس اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے وزیر خارجہ ہند سشما نے کہا کہ ہندوستان ’’پیرس معاہدہ‘‘ سے ماورا بھی جدوجہد کیلئے تیار ہے۔ چوٹی کانفرنس کی صدارت صدر فرانس ایمانیول میکرون کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان اور فرانس مشترکہ طور پر بین الاقوامی شمسی اتحاد کیلئے کام کررہے ہیں۔ دن میں سشما نے کئی باہمی ملاقاتیں کیں جن میں میکسیکو، ناروے اور بیلجیم کے قائدین شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT