Thursday , November 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / ہندوستان اور ترکی کے مسلمانوں کی بلند ہمتی اور سیاسی دوراندیشی

ہندوستان اور ترکی کے مسلمانوں کی بلند ہمتی اور سیاسی دوراندیشی

ہندوستان قدیم سے مجوسیت اور بت پرستی کا مرکز رہا ، ہندو مذہب اس کی گود میں پلتا اور پھیلتا رہا جب اسلام کا سورج طلوع ہوا اور اس کی کرنیں ہندوستان تک پہنچی تو دین اسلام پوری قوت سے ہندوستان میں داخل ہوا اور تاحال ثابت قدم ہے ۔ انقلابات زمانہ خدائے ذوالجلال کی سنت اور قدرت ہے ، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں ، انقلابات آتے جاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ہندوستان میں بت پرستی عروج پر رہی ، پھر اسلامی فوج داخل ہوئی اور صدیوں ہندوستان کے طول و عرض میں اسلامی حکمراں تخت سلطنت پر متمکن رہے لیکن قانونِ قدرت اٹل ہے ، حسب دستور الٰہی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور اسلامی قوت و اقتدار کا زوال ہوا ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوستان کے زیرک علماء نے اسلام کے استحکام کے لئے اسلامی سلطنت کو پائیدار بنانے پر تمام طاقتیں صرف نہیں کیں ،بلکہ نہایت دانشمندی سے اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامیت کی بقاء کے لئے پورے ہندوستان میں دینی مدارس کا جال بچھایا ۔ ہندوستانی مسلمانوں کی مادری زبان عربی نہ ہونے کے باوجود اس سرزمین پر ایسے علماء اور اہل علم ظاہر ہوئے جن کی عربیت ، ذہانت اور دینی خدمات کے دنیائے اسلام کے علماء قائل و معترف رہے ۔ بطورخاص جب عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ میں علمی جمود و انقباض چھایا ہوا تھا اس دوران علوم اسلامیہ و دینیہ کا سورج ہندوستان میں پوری آب و تاب سے روشن و منور تھا ۔ ہندوستان کے دینی مدارس و جامعات نے علوم اسلامیہ کے ہر شعبہ میں قابل قدر خدمات انجام دیں اور قابل فخر علماء کی فوج در فوج تیار کی ۔ اور ایسے بلند ہمت افراد کی تربیت کی جو کٹھن و نامساعد حالات میں قوم و ملت کی دینی و سیاسی رہنمائی کرتے رہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ آج مشرق وسطیٰ باہمی رساکشی ، انتشار، انارکی ، قتل و خون کی آگ میں جل رہا ہے اور مسلم ممالک میں مقیم اہل اسلام نے کوئی خاطر خواہ سیاسی بصیرت و شعور کا نمونہ پیش نہیں کیا بلکہ سازش کے شکار ہوئے اور ملک کا ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ۔ اس کے برخلاف ہندوستان کے مسلمان اگرچہ یہاں اسلامی حکومت قائم نہیں ہے ، غیرمسلمین کا ہرمیدان و محاذ پر غلبہ ہے۔ وہ اکثریت میں ہیں ، میڈیا ان کے کنٹرول میں ہے ۔ ان کی تہذیب و کلچر ہر طرف عام ہے ۔ حکومتی ادارہ جات میں انہی کا تصرف ہے ۔ غیرمسلم سیاسی قائدین و ملازمین کی اسلام و مسلمانوں سے نفرت ، مکاری ، عیاری ظاہر ہے ۔ حتیٰ کہ انصاف کے مراکز اور قانون کے محافظ بھی اسلام کی دشمنی میں آگے ہیں۔ اہل اسلام کو تعلیمی ، معاشی اور فکری طورپر کمزور کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ہے ۔ ان کو پست ہمت کرنے کے لئے کھلے عام قتل کیا جارہا ہے ۔ منظم فسادات کروائے جارہے ہیں ، مسلمان بستیوں کو زندہ جلایا جارہا ہے ۔ ہندو مذہب کے خلاف آواز اُٹھانے والوں پر قانونی شکنجہ کسنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس کی ادنیٰ مثال یہ ہے کہ محمد اخلاق کو دن دھاڑے گھر سے نکال کر سر راہ قتل کیا گیا اور جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ اس نے اپنے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہے۔ ابتدائی تحقیقی رپورٹ کے مطابق گائے کا گوشت ثابت نہ ہوا ، بعد ازاں دیگر تحقیقی ادارہ جات کی رپورٹ تیار کروائی گئی اور یہ باور کروایا گیا کہ وہ گائے کا گوشت تھا ۔ اور بجائے مقتول محمد اخلاق کے افراد خاندان کے ساتھ حکومت انصاف کرتی ، عدالت ان کے افراد خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ سناتی ہے ۔ اس واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہیکہ ہندوستان کا غیرمسلم ذہن ، اسلام اور مسلمانوں سے متعلق کس حد تک نفرت رکھتاہے اور مسلمانوں کو دبانے کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کررہا ہے ۔ اس کے باوجود ہندوستان کے مسلمان پرسکون اور سربلند ہیں ۔ اُن کی ہمت اور ارادوں میں کوئی ضعف و کمی نہیں اور وہ مجموعی طورپر دیگر ممالک کے مقابل میں متوازن سیاسی شعور رکھتے ہیں اور برموقعہ سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہیں ۔ اگرچہ وہ مکاتب فکر کے باہمی کشمکش کے شکار ہیں اور نظریاتی طورپر ایک دوسرے سے ذہنی موافقت نہیں رکھتے ہیں، اگر وہ ان نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر ، ایک قوم ، ایک ملت اور ایک نصب العین یعنی اہل اسلام کے استحکام کی طرف توجہہ مرکوز کریں تو پوری دنیا میں ہندوستان کے مسلمان ،دنیائے اسلام کے مسلمانوں کے لئے قابل تقلید بن سکتے ہیں جس طرح اس ہفتہ ترکی کے غیور مسلمانوں نے اپنے صدر کی آواز پر کمزور فوجی انقلاب کو اپنی حکمت ، دلیری ، وفاداری اور اتحاد سے ناکام بنایا اور دشمنانِ دین کے منصوبوں پر پانی پھیردیا اور ان کے خوابوں کو چکنا چور کردیا اور مسلم ممالک میں مقیم اہل اسلام کے لئے دانشمندی ، ، جرأتمندی ، اولوالعزمی ، دوراندیشی ، بہادری اور وحدت و اتحاد کا نمونہ بن گئے ۔

بعض مبصرین کی رائے میں یہ ترکی کے صدر طیب اردوغان کا سیاسی تماشا تھا ،جس کو بیشتر ماہرین نے مسترد کردیا ہے لیکن اس میں کوئی دورائے نہیں کہ رجب طیب اردوغان کی حکومت ذہنی طورپر کسی بھی وقت فوجی انقلاب کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھی اور وقت سے پہلے ہی اس کے لئے کامیاب حکمت عملی اور منصوبہ بندی تیار کرچکی تھی ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ بڑے پیمانے پر فوجی انقلاب ممکن نہ رہا اور جب مختصر سطح پر فوجی انقلاب کی آہٹ محسوس ہوئی تو رجب طیب اردوغان کے اعلیٰ دماغ و وفادار سیاسی مصاحبین اور جانباز حامیوں نے بڑی جرأتمندی اور پوری قوت سے اس کو دو گھنٹوں میں ختم کردیا اور ثابت کردیا کہ سیاسی میدان میں دانا وہ ہوتا ہے جو دشمن کے وار سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔ طیب اردوغان آج اس ناکام فوجی انقلاب کا اپنے سیاسی استحکام کے لئے بھرپور فائدہ اُٹھارہے ہیں ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا‘‘ برائی کا بدلہ اسی کے بقدر لیا جاتا ہے اور اگر انتقام یا جوابی ردعمل میں مقررہ حدود کو نظرانداز کردیا جائے اور عدل و انصاف کو ملحوظ رکھا نہ جائے تو ظلم و زیادتی اور ناحق تحقیر و اہانت بہت جلد اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ اگر دنیا میں اس کے اثرات ظاہر نہ بھی ہوں تو آخرت میں جوابدہی لازمی ہے ۔ فوجی انقلاب کی ناکامی اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ کا عطیہ ہے اور اصل امتحان طاقت و قوت کے باوصف عدل و انصاف پر قائم رہنا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس ناکام فوجی انقلاب کے بعد ترکی حکومت حفظ ماتقدم کے لئے انسانی اور اسلامی حدود و روایات کو برقرار رکھتی ہے یا سیاسی قوت کے استحکام اور دیرینہ مصالح کے لئے اس کا استحصال کرتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT