ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیا ن آج دوسرا سیمی فائنل

میرپور۔3اپریل(سیاست ڈاٹ کام ) گروپ مرحلے کے چاروں مقابلوں میں ناقابل تسخیر رہنے کے بعد ہندوستانی کھلاڑیوں کے حوصلے کافی بلند ہیں ۔ تاہم یوراج سنگھ کے زخمی ہونے سے ہندوستان کو کل یہاں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں قطعی 11کھلاڑیوں کے انتخاب میں مسائل کا سامنا ہے ۔ ہندوستانی ٹیم انتظامیہ امید کرر

میرپور۔3اپریل(سیاست ڈاٹ کام ) گروپ مرحلے کے چاروں مقابلوں میں ناقابل تسخیر رہنے کے بعد ہندوستانی کھلاڑیوں کے حوصلے کافی بلند ہیں ۔ تاہم یوراج سنگھ کے زخمی ہونے سے ہندوستان کو کل یہاں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں قطعی 11کھلاڑیوں کے انتخاب میں مسائل کا سامنا ہے ۔ ہندوستانی ٹیم انتظامیہ امید کررہا ہے کہ یوراج سنگھ اپنے ٹخنے کے زخم سے مکمل صحت یاب ہوکر کل مقابلے کے آغاز سے قبل انتخاب کیلئے دستیاب رہیں گے ۔ ہندوستانی ٹیم کیلئے ناقص فام کا شکار شکھر دھون کے مقام پر اجنکیا راہنے اور محمد سمیع کے مقام پرموہت شرما کے انتخاب میں مسائل کا سامنا ہے ۔ کیونکہ ان کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے خلاف منعقدہ گروپ مرحلے کے آخری مقابلہ میں قطعی 11کھلاڑیوںمیں شامل کیا گیا تھا ۔ جہاں تک دھون کا تعلق ہے وہ ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں لیکن ان کا ناقص فام ہندوستانی ٹیم انتظامیہ کیلئے تشویش کا باعث ہے جس کی وجہ سے راہنے کو ٹیم میںموقع دیا گیا تھا جب کہ یوراج سنگھ کے کل تک مکمل صحت یاب نہ ہونے کی صورت میں دھون اور راہنے دونوں کی شمولیت یقینی ہے ۔ دریں اثناء مہیندر سنگھ دھونی کی خواہش ہے کہ ٹیم کے سینئر بیٹسمین یوراج سنگھ جنوبی افریقہ کے خلاف سیمی فائنل سے قبل مکمل صحت یاب ہوجائیں

کیونکہ وہ نہ صرف حریف بولروں کے خلاف تیزی سے رنز بناسکتے ہیں بلکہ اپنی اسپین بولنگ کے ذریعہ افریقی بیٹسمینوں کو پویلین کی راہ بھی دکھاسکتے ہیں نیز فائنل میں رسائی کیلئے ان کا کلیدی رول بھی ہوسکتا ہے ۔ ہندوستانی نائب کپتان ویراٹ کوہلی کا عمران طاہر اور روہت شرما کا ڈیل اسٹین کی آگ اُگلتی گیندوں کے خلاف سخت امتحاں ہوسکتا ہے ۔ دونوں ٹیموں کا کاغذات پر موازانہ کیا جائے تو ٹورنمنٹ میں جس طرح کے مظاہرے ہندوستانی ٹیم نے کئے ہیں اس کی بدولت سیمی فائنل میں اسے پسندیدہ موقف حاصل ہے ‘ تاہم ٹوئنٹی 20 ایسا کھیل ہے جہاں کسی بھی لمحہ مقابلہ کسی بھی سمت پلٹ سکتا ہے ۔ جیسا کہ گذشتہ روز پاکستان کو صرف تین اوورس میں ویسٹ انڈیز کے خلاف مقابلے سے اپنی گرفت کھوتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ ہندوستانی ٹیم جہاں چاروں مقابلوں میں فتوحات کے ذریعہ سیمی فائنل میں پہنچی ہے

وہیں جنوبی افریقہ نے تین فتوحات کے ذریعہ ٹورنمنٹ کی آخری چار ٹیموں میں اپنی جگہ بنائی ہے ۔ جنوبی افریقہ کا زیادہ تر انحصار دنیا کے نمبر ایک فاسٹ بولر ڈیل اسٹین پر رہے گا جنہوں نے چار مقابلوں میں 9وکٹیں حاصل کی ہیں اور وہ 22گز کی زمین سے تیز رفتار گیندے حاصل کرسکتے ہیں ‘ لیکن ٹیم میں شامل لیگ اسپنر عمران طاہر مقابلے میںتوجہ کا مرکز ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ انہوں نے گذشتہ چار مقابلوں میں فی اوور 7سے کم رنز دیتے ہوئے ٹیم کیلئے بہتر مظاہرہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں مورنی مرکل بھی صحت یاب ہوکر بہتر مظاہرے کیلئے تیار ہیں ۔ ہاشم آملہ کے علاوہ اے بی ڈی ویلیئرس کی تہس نہس کرنے والی بیٹنگ کے ہمراہ جے پی ڈومینی اور کپتان فاف ڈپلیسی کے ساتھ ڈیوڈ ملّر کی شمولیت بھی اس کے بیٹنگ شعبہ کو مستحکم کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT