Thursday , September 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج پہلا ونڈے

ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج پہلا ونڈے

2:30 بجے شروع ہونے والے مقابلے میں میزبان کامیابی کا خواہاں

2:30 بجے شروع ہونے والے مقابلے میں میزبان کامیابی کا خواہاں
کوچی 7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی کرکٹ ٹیم محدود اوورس کی کرکٹ میں پھر ایک مرتبہ اپنی حکمرانی کو ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہوگی جیسا کہ ورلڈ کپ کی تیاری کے ضمن میں کھیلی جانے والی ونڈے سیریز کا ویسٹ انڈیز کے خلاف کل یہاں پہلا مقابلہ منعقد ہوگا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ سیریزوں میں کامیابی جن میں 2006-2007 میں بیرون ملک کی تین سیریزیں بھی شامل ہیں، ان فتوحات کے تناظر میں کل شروع ہونے والی سیریز میںبھی ہندوستان کو سبقت اور پسندیدہ موقف حاصل رہے گا۔میز بان ٹیم پانچ مقابلوں کی ونڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بہت ہی کم چیلنج کی امید کررہی ہے ۔ جیسا کہ مہمان ٹیم میں اہم اسپنر سنیل نارائن کی عدم موجودگی کے بعد وہ مزید کمزور ہوچکی ہے کیونکہ ہندوستان میں منعقدہ چیمپئنس لیگ 20 ٹوئنٹی ٹورنمنٹ میں مشکوک بولنگ کے بعد ان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سنیل نارائن کے ٹیم سے باہر ہونے سے قبل ہی ویسٹ انڈیز کو اپنے دھماکو بیٹسمین کریس گیل کی خدمات بھی دستیاب نہیں ہے۔ ان حالات میں ہندوستانی ٹیم یہاں کوچی میں پہلے مقابلے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیریز میں 1-0 کی سبقت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہوگی جیسا کہ گذشتہ برس جنوری نے اس نے یہاں آسٹریلیا اور پھر نومبر میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی ہے۔ مہندر سنگھ کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم ایک متوازن ٹیم ہے جس میں ویراٹ کوہلی کے ناقص فام کے علاوہ باقی تمام بیٹسمین اور بولروں کے مظاہرے اطمینان بخش ہے ۔سلیکٹروں نے زخمی روہت شرما کے مقام پر مرلی وجئے کو موقع دیا ہے لیکن یہ ہنوز فیصلہ نہیں ہوپایا ہے کہ مرلی وجئے یا پھر اجنکیا راہانے اننگز کا آغاز شیکھر دھون کے ساتھ کریں گے۔ویراٹ کوہلی کیلئے اس سے زیادہ سنہری موقع دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا جہاں وہ ناقص فام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے شاندار واپسی کرسکتے ہیں۔

ان فام بیٹسمین سریش رائنا کے ہمراہ امباتی رائیڈو اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کی موجودگی میزبان ٹیم کے میڈل آرڈر کو کافی مضبوط بناتی ہے ۔بولنگ شعبہ میں موہت شرما توجہ کا مرکز ہوں گے کیونکہ وہ دھونی کی قیادت میںچنائی سوپر کنگس کیلئے مسلسل کھیل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں بھونیشور کمار ، محمد سمیع اور اومیش یادو کی موجودگی فاسٹ بولنگ شعبہ کو کافی طاقتور بنا رہی ہے ۔ ٹیم کے نمبر 1 اسپنر روی چندرن اشون کو آرام دیتے ہوئے ان کے مقام پر 19 سالہ بائیں ہاتھ کے اسپنر کلدیپ یادو کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے لیکن قطعی 11 کھلاڑیوں میں انہیں شامل کیا جاتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ توجہ کا مرکز ہے ۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو ہندوستانی سرزمین پر میز بان ٹیم کے خلاف سیریز میں کامیابی کیلئے غیر معمولی مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس کیلئے 15 کھلاڑیوں میں کم از کم 7 ایسے نام ہیں جنہوں نے چیمپئنس لیگ میں شرکت کرتے ہوئے یہاں کے حالات سے خود کو ہم آہنگ کیا ہے۔گذشتہ نومبر ڈیرن سمی سے قیادت حاصل کرنے کے بعد ڈیون براوو کیلئے کپتانی مشکل ثابت ہوئی ہے تاہم وہ اس مرتبہ ہندوستان کے خلاف بہتر مظاہروں کے ذریعہ خود کو ایک کامیابی کپتان ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہوں گے ۔ براوو کو امید ہے کہ سمی، کیرن پولاڈ اور ڈیرن براوو کے ساتھ روی رامپال اور کیمر روچ ٹیم کی فتوحات میں اہم رول ادا کریں گے ۔لیکن اسپن شعبہ میں سنیل نارائن کی عدم موجودگی کا میزبان ٹیم کو فائدہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT