Friday , November 24 2017
Home / دنیا / ہندوستان اور پاکستان کو امن کا انتخاب کرنا چاہئے : امریکی مشورہ

ہندوستان اور پاکستان کو امن کا انتخاب کرنا چاہئے : امریکی مشورہ

ہندوستان کو عدم نیوکلیئر تجربہ معاہدہ کی پاکستان کی پیشکش، وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریہ کا بیان
واشنگٹن ؍ اسلام آباد۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر زبانی جنگ میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے امریکہ نے آج کہا کہ دونوں ممالک کو امن کا انتخاب کرنا چاہئے اور مسئلہ کشمیر پر باہم تبادلہ خیال کے امکانات ہنوز برقرار ہیں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ایلزیبتھ ٹرو ڈیو نے کہاکہ کشمیر کے بارے میں ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ بات چیت کے امکانات اور اس میں پیشرفت ہنوز برقرار ہیں۔ کشمیر پر تبادلہ خیال کی نوعیت کا تعین دونوں فریقین کو کرنا ہوگا۔ ہم مثبت اقدامات کی تائید کریں گے چاہے وہ ہندوستان کی جانب سے کئے جائیں یا پاکستان کی جانب سے تاکہ قریبی تعلقات کا احیاء ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جھڑپوں سے واقفیت رکھتا ہے اور تشدد پر اسے بے انتہاء تشویش ہے۔ امریکہ تمام فریقین کی حوصلہ افزائی کرتا ہیکہ تنازعہ کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان نے تاہم سوالات اور وزیراعظم نریندر مودی کے کل یوم آزادی خطاب کے دوران کئے ہوئے تبصرہ کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ وزیراعظم مودی نے بلوچستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے عوام پر پاکستان کے مظالم کا اپنے یوم آزادی خطاب میں تذکرہ کیا تھا۔ اسلام آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب اندرون ایک ہفتہ دوسری مرتبہ پاکستان نے آج ہندوستان کو عدم نیوکلیئر تجربات معاہدہ کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے این ایس جی کو ایک مثبت اشارہ جائے گا

 

جس کی رکنیت کیلئے دونوں ممالک درخواست دی ہے۔ پاکستان کی ہندوستان کو پیشکش نیوکلیئر ہتھیاروں کے تجربے نہ کرنے کا معاہدہ باہمی انتظامات پر مشتمل ہوگا۔ ابتدائی اعلان وزیراعظم کے مشیر برائے خارجی امور سرتاج عزیز نے 12 اگست کو کیا تھا۔ دفترخارجہ کی ترجمان نفیس ذکریا نے آج کہا کہ 1998ء کے نیوکلیئر تجربات کے بعد پاکستان نے ہندوستان کو پیشکش کی تھی کہ بیک وقت دونوں ممالک جامع عدم تجربہ امتناع معاہدہ کی پابندی کریں گے لیکن اس تجویز پر ہندوستان کی جانب سے مثبت ردعمل حاصل نہیں ہوا۔ ایک بار پھر علاقائی امن و استحکام کے وسیع تر مقصد کیلئے عالمی تناظر میں پاکستان نے اشارہ دیا ہیکہ دونوں ممالک باہمی انتظام پر متفق ہونے کا امکان ہے۔ اس سے یہ پالیسی ظاہر ہوگی کہ دونوں ممالک صبر و تحمل اور ذمہ داری کے احساس کو جنوبی  ایشیاء میں فروغ دینا چاہتے ہیں اور سی ٹی بی ٹی کے مقاصد کی مسلسل تائید کرتے ہیں۔ عدم تجربات معاہدہ دونوں ممالک کی اتفاق رائے پر مبنی ہوگا اور مزید انتظار کے بغیر دونوں ممالک اس کی پابندی کریں گے۔ اس طرح وہ بین الاقوامی سطح پر سی ٹی بی ٹی کے دائرہ کار میں آجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT