Wednesday , December 12 2018

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ

لکھنو ۔ 11 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے آج دہشت گردی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے اور کہا کہ قیام امن ہی دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں ہے جو کہ مذاکرات کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تجارت میں باہمی سرمایہ کاری کے قطع نظر دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو نئی جہت عطا کرنے کی ضرو

لکھنو ۔ 11 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے آج دہشت گردی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے اور کہا کہ قیام امن ہی دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں ہے جو کہ مذاکرات کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تجارت میں باہمی سرمایہ کاری کے قطع نظر دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو نئی جہت عطا کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے ۔ صنعتکاروں کی انجمن FICCI کے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر باسط نے کہا کہ دہشت گردی ا یک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ہم نے گزشتہ 35 سال میں مصائب و آلام جھیلتے ہوئے 50 ہزار زائد جانیں ضائع کردیں اور یہ مسئلہ اب دونوں ممالک کیلئے مشترکہ چیلنج بن گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے اگر ممبئی میں دہشت گردی کا سامنا کیا ہے تو پاکستان نے بھی اس کا مقابلہ کیا ہے ۔اگر کہیں بھی شکایت ہے تو ہمیں بھی اس سے زائد شکایات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت سے افغانستان کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پیچیدہ تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن زور باہمی مفادات میں ہے جوکہ مذاکرات کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ سیاسی تنازعات ، شک و شبہات اور تجارتی تحدیدات کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت سرد مہری کا شکار ہوگئی ہے۔ انہوں نے معاشی تعلقات کے فروغ میں باہمی انحصار کی ضرورت پر مور دیا اور کہا کہ باہمی انحصار کا فقدان کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے لیکن طویل عرصہ تک قابل متحمل نہیں ہوسکتا چونکہ یہ ایک سست رفتار عمل ہے اور ایک انقلابی تبدیلی کی توقع لا حاصل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدات اور مفاہمتوں پر دستخط کئے گئے لیکن آحری دن تک اس پر عمل نہیں کیا جاسکا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چونکہ سرد جنگ کا خاتمہ اور عالمگیریت کا آغاز ہوگیا ہے اور اب دونوں ممالک کو ایک طویل راستہ پر گامزن ہونا چاہئے ۔ مسٹر عبدالباسط نے دونوں ممالک سے ایک دوسرے کی معیشت میں باہمی سرمایہ کاری کی اپیل کی اور بتایا کہ مساویانہ تجارت ہندوستان کے مفاد میں ہوگئی اور جب بھی مذاکرات کا احیاء ہوگا یہ موضوع بحث رہے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی مہم میک ان انڈیا کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یہ استدلال پیش کرتے ہوئے کہ معاشی تعلقات کو سیاسی ماحول سے علحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ مسٹر باسط نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں نوجوانوں اور سیول سوسائٹی کے عظیم رول کی نشاندہی کی۔ انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ ترکمنستان ۔افغانستان۔پاکستان۔ انڈیا (TAPI) گیس پائپ لائین پراجکٹ آئندہ دو تین سال میں روبعمل لایا جائے گا ۔ ویزا کے مسئلہ پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے باہمی اعتماد میں بہتری کے بعد حالات تبدیل ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT