Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / ہندوستان اور چین نے ڈوکلام کو پیچھے چھوڑدیا، آگے بڑھنے سے اتفاق

ہندوستان اور چین نے ڈوکلام کو پیچھے چھوڑدیا، آگے بڑھنے سے اتفاق

وزیراعظم مودی اور صدر ژی کی ملاقات، مختلف اُمور پر تعمیری اور ثمرآور مذاکرات، سرحدوں پر امن دوستی برقرار رکھنے پر زور
ژیامن 5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور چین نے ڈوکلام تعطل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے باہمی تعلقات کے ضمن میں آگے کی سمت دیکھنے سے آج اتفاق کرلیا اور وزیراعظم نریندر مودی سے چین کے صدر ژی جن پنگ نے کہاکہ وہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو صحیح راستہ پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ سکم سیکٹر کے ڈوکلام پر پیدا شدہ تعطل کے خاتمہ کے بعد دونوں قائدین کی یہ پہلی ملاقات تھی جس کو وزیراعظم مودی نے ’ثمرآور‘ قرار دیا ہے۔ دونوں ملکوں نے اپنے سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تعاون کو مستحکم بنانے کے بشمول مزید اقدامات کرنے سے بھی اتفاق کیا تاکہ مستقبل میں اس قسم (ڈوکلام تعطل) کے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے۔ 73 روزہ ڈوکلام تعطل کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر ژی جن پنگ کے درمیان پہلی ملاقات میں ’تعمیری‘ بات چیت کی گئی جس میں اس عہد کا اعادہ کیا گیا کہ ہند ۔ چین تعلقات میں فروغ کے لئے سرحدی علاقوں پر امن و دوستی پہلی لازمی شرط ہے۔

ژی سے اپنی بات چیت کے بعد مودی نے ٹوئیٹ کیاکہ ’’صدر ژی جن پنگ سے ملاقات کی۔ ہندوستان اور چین کے درمیان باہمی تعلقات پر ہم نے ثمرآور بات چیت کی‘‘۔ معتمد خارجہ ایس جئے شنکر نے اس ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے کہاکہ وزیراعظم نے چینی رہنما سے زائداز ایک گھنٹہ بات چیت کی۔ اس دوران دونوں قائدین نے مشترکہ اقتصادی گروپ، سکیورٹی گروپ اور حکمت عملی گروپ جیسے مختلف بین سرکاری میکانزمس پر گفت و شنید بھی کی جو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مزید پیشرفت کے لئے معاون ہوگی۔ اس سوال پر کہ آیا دونوں قائدین نے ڈوکلام واقعہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جئے شنکر نے جواب دیا کہ ’’یہ پیچھے کی طرف دیکھنے کے نہیں بلکہ آگے کی سمت کے مذاکرات تھے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ دونوں قائدین نے طرفین کے درمیان باہمی اعتماد کے استحکام اور اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی محسوس کیا گیا کہ سکیورٹی اور دفاعی اہلکار مضبوط و مستحکم رابطہ برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو صورتحال حالیہ عرصہ میں پیدا ہوئی تھی اس کا دوبارہ اعادہ ہونے نہ پائے۔ معتمد خارجہ نے کہاکہ دو پڑوسیوں یا دو بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات بلاشبہ ایک فطری امر ہیں لیکن انھیں باہمی احترام کے ساتھ نمٹا جانا چاہئے اور اُن کی سکیورٹی میں مشترکہ بنیاد کی تلاش کیلئے مساعی کی جانی چاہئے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان 16 جون سے ڈوکلام تعطل جاری تھا اور 28 گسٹ کو ہندوستانی وزارت اُمور خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ نئی دہلی اور بیجنگ نے ڈوکلام کے متنازعہ علاقہ سے اپنی فوجیں ہٹانے سے اتفاق کرلیا ہے۔ مودی ۔ ژدی بات چیت کے بعد چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شوآنگ نے کہاکہ ’’صدر ژی نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور ہند ایک دوسرے کے لئے خطرہ نہیں بلکہ بہترین مواقع ہیں‘‘۔ جِنگ نے ژی کے حوالہ سے کہاکہ ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ چین کی ترقی کو ہندوستان ایک صحیح اور معقول انداز میں دیکھے گا‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT