Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / ہندوستان اور چین کاسرحدی تنازعہ کی یکسوئی کا عہد

ہندوستان اور چین کاسرحدی تنازعہ کی یکسوئی کا عہد

بیجنگ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) سرحدی تنازعہ کی جلد از جلد یکسوئی کا عہد کرتے ہوئے ہندوستان اور چین نے فیصلہ کیا کہ پیچیدہ تنازعات کی ’’سیاسی ‘‘ یکسوئی پر زور دیا جائے گا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کے پس منظر میں کہ اُن کی حکومت باہمی تعلقات میں انقلابی تبدیلی پیدا کرے گی اور کوئی تازہ دخل اندازیاں نہیں کی جائیں گی ۔ نریندر مودی ن

بیجنگ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) سرحدی تنازعہ کی جلد از جلد یکسوئی کا عہد کرتے ہوئے ہندوستان اور چین نے فیصلہ کیا کہ پیچیدہ تنازعات کی ’’سیاسی ‘‘ یکسوئی پر زور دیا جائے گا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کے پس منظر میں کہ اُن کی حکومت باہمی تعلقات میں انقلابی تبدیلی پیدا کرے گی اور کوئی تازہ دخل اندازیاں نہیں کی جائیں گی ۔ نریندر مودی نے وزیر اعظم چین لی کیقیانگ سے بات چیت کرتے ہوئے خط حقیقی قبضہ کے واضح تعین پر زور دیا اور کہا کہ سرحدی مسئلہ پر ہمارے موقف سے بغض و عناد رکھے بغیر ایسا کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر یقینی کیفیت کے سائے ہمیشہ سرحدی علاقہ کے حساس مقامات پر پڑتے رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ حقیقی خط قبضہ ان علاقوں میں کہاں پر واقع ہے ۔ وزیر اعظم ہند نے ای ویزا سہولت کا چینی سیاحوں کیلئے اعلان کرتے ہوئے حکومت چین سے خواہش کی کہ وہ چند مسائل پر جن کی وجہ سے دونوں ممالک پچھڑے ہوئے ہیں از سر نو غور کیا جائے ۔ وہ واضح طور پر ارونا چل پردیش کے شہریوں کو منسلکہ ویزا جاری کرنے کا حوالہ دے رہے تھے ۔ ارونا چل پردیش کو چین اپنا علاقہ قرار دیتا ہے ۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ سرحد کے اجلاس کے مقامات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا ۔ فوجی ارکان عملہ موجودہ چار مقامات پر تعیناتکئے جائیں گے ۔

دریں اثناء امن اور خیر سگالی کا ماحول سرحد پر برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باہمی تعلقات میں مسلسل ترقی کی اہم ضمانت یہی ماحول ہوسکتا ہے ۔نریندرمودی اور لی کیقیانگ نے وسیع تر موضوعات پربشمول سرحدی تنازعہ ‘تجارتی عدم توازن ‘دہشت گردی ‘سرمایہ کاری ‘تبدیلی ماحولیات اور اقوام متحدہ میں اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا ۔ مذاکرات 90 منٹ جاری رہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات گذشتہ چند دہائیوں سے پیچیدہ ہوگئے ہیں کہا کہ دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے کہ اپنے تعلقات کوطاقت کا ایک وسیلہ ایک دوسرے کیلئے بنادے اور دنیا کیلئے ایک اچھی طاقت فراہم کریں ۔ انہوں نے دو ممالک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوںکے مفادات انتہائی حساس ہے اور مسائل کے اختراعی حل تلاش کئے جانے چاہئے جن کی وجہ سے سے باہمی تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں یہ احساس ہوجائے کہ ہماری شراکت داری غیر معمولی ہے تو ہمیں ان تمام مسائل کی یکسوئی بھی کرنی ہوگی جن کے نتیجہ میں ہچکچاہٹ ‘شکوک و شبہات یہاں تک کہ بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں جلد از جلد سرحدی تنازعہ کی یکسوئی کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں یہ مسئلہ ورثہ میں حاصل ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT