Tuesday , December 12 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان اوسط درجہ کے مظاہروں سے باہر کب آئے گا ؟

ہندوستان اوسط درجہ کے مظاہروں سے باہر کب آئے گا ؟

سابق اولمپیئن اسلم شیرخان اور بندرا کی انتظامیہ پر تنقید

نئی دہلی ۔ 23اگست (سیاست ڈاٹ کام ) ریو اولمپکس میں ناقص کارکردگی اور گولڈ میڈل کے حصول میں ناکامی پر ہندوستانی اولمپکس حکام تنقیدوں کی زد میں ہیں جہاں ان پر الزام ہے کہ وہ ایتھلیٹس کو فتوحات دلانے میں ناکام رہے۔ ہندوستان نے ریو اولمپکس 2016 میں توقعات کے برخلاف بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور وہ صرف دو میڈل جیتنے میں کامیاب ہو سکا جبکہ چار سال قبل لندن اولمپکس میں قومی کھلاڑیوں نے نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ میڈلس حاصل کئے تھے۔ریو میں بیڈمنٹن چیمپیئن پی وی سندھو نے سلور جبکہ ساکشی ملک نے ریسلنگ میں برونز میڈل حاصل کیا لیکن کوئی بھی ایتھلیٹ سونے کا تمغہ نہ جیت سکا۔ تاہم اولمپکس میں کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہی جدوجہد کا شکار رہنے والے ہندوستانی ایتھلیٹس کی کارکردگی کو دیکھ کر عوام اور سابق کھلاڑیوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اولمپکس حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔سابق ہاکی اولمپیئن اسلم شیر خان نے کہا کہ برطانیہ اور اس جیسے چند ملکوں نے اپنی قسمت بدلتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن افسوس ہے کہ ہم اب تک ہماری اوسط درجے کی کارکردگی سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ ریو اولمپکس میں ہندوستانی وزیر کھیل وجئے گوئل نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان آفیشلز کو اولمپکس میں شرکت کروائی جن کا ایکریڈیشن نہیں تھا جبکہ ان افراد نے بدترین رویہ بھی اپنایا جس پر اولمپکس حکام نے ان تمام افراد کی ایکریڈیشن منسوخ کرنے کی دھمکی دی۔ہندوستانی وزیر اس اقدام پر سوشل میڈیا پر مذاق کا موضوع بن گئے جبکہ ایک شکست خوردہ باکسر کے ساتھ سیلفی منظر عام پر آنے کے بعد اخبار انڈین ایکسپریس نے ان پر تھکن سے چور ہندوستانی ایتھلیٹس کے ساتھ سیلفی لینے کا الزام بھی عائد کیا۔انفرادی مقابلوں میں ہندوستان کیلئے گولڈ میڈل جیتنے والے واحد ایتھلیٹ اور شوٹر ابھینو بندرا نے کہا کہ اولمپکس عہدیداروں میں سے اکثر اس ملازمت کے اہل نہیں اور شکستوں کے باوجود ان سے جواب طلبی نہیں کی جاتی۔2008 کے بیجنگ اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتنے والے ایتھلیٹ بندرا نے کہا کہ میں غصہ کر کے اپنی صحت تباہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ ہمیشہ ہوتا ہے اور ایسا ہی ہے۔ ہمیں پورے سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مزید ماہرین کی ضرورت ہے اگر سیاستدان اس مسئلے کا کوئی حل پیش کرتے ہیں تو مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں۔بندرا نے دیگر ممالک خاص کر برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک میڈل کے حصول کیلئے تقریباً 5.5 ملین پاؤنڈس خرچ کئے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT