Wednesday , November 21 2018
Home / ہندوستان / ہندوستان ایروناٹکس کو آفسٹ پارٹنر بننے میں کوئی دلچسپی نہیں

ہندوستان ایروناٹکس کو آفسٹ پارٹنر بننے میں کوئی دلچسپی نہیں

رافیل معاملت میں ریلائنس ڈیفنس کو ضمنی کنٹراکٹ کے تناظر میں ایچ اے ایل چیرمین مادھون کا بیان
بنگلورو۔7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) رافیل جیٹ طیارہ معاملت کے بارے میں سیاسی خلفشار کے درمیان سرکاری زیر انتظام ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے چیرمین و منیجنگ ڈائرکٹر آر مادھون نے آج کہا کہ طیارے بنانے والی کمپنی کوئی بھی ساز و سامان تیار کرنے والی اصل ادارے کی ذمنی شراکت دار بننے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ لیکن طیاروں کو تیاری کے لیے وہ مکمل ٹیکنالوجی کے تبدالے کی صورت میں پارٹنر بننا چاہے گی۔ مادھون کا یہ جواب اس وقت سامنے آیا جب ان سے مختلف الزامات میں سے اس کے بارے میں وضاحت کے لیے کہا گیا کہ ڈیفنس کی پبلک سیکٹر یونٹ ایچ اے ایل کو رافیل معاملت میں آفسٹ کنٹراکٹ سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے یہاں نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہم کوئی بھی اصل کمپنی کے آفسٹ پارٹنر بننا ہی نہیں چاہتے بلکہ ایچ اے ایل ’ٹوٹل ٹیکنالوجی ٹرانسفر پارٹنر‘ بننا چاہے گی جو مختلف طیارے تیار کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایچ اے ایل کی بنیادی توجہ طیارہ، ہیلی کاپٹر اور اس سے متعلق ساز و سامان نیز ان کی مرمت اور مجموعی دیکھ بھال پر مرکوز ہے، ناکہ آفسٹ بزنس حاصل کرنے پر۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر سے طیارے کا پروڈکشن آفسٹ کنٹراکٹس سے بالکل مختلف ہے۔ مادھون نے کہا کہ مختلف دیگر پروگراموں کے معاملہ میں آفسٹ بزنس کا کچھ حصہ ایچ اے ایل نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے، لیکن اس کا مطلب بڑا بزنس نہیں ہوتا۔ اس طرح کے آفسٹ بزنس کمپنی حاصل کرتے رہے گی۔ کانگریس نے حال ہی میں حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے ڈسالٹ ایویشن کو مجبور کیا کہ 36 رافیل جیٹ طیاروں کی خریدی کے لیے 58 ہزار کروڑ روپئے کی معاملت کے سلسلہ میں ریلائنس ڈیفنس کو اپنا آفسٹ پارٹنر بنائے۔ ایسا الزام ہے کہ حکومت نے انیل امبانی گروپ کی مدد کی ہے تاکہ اس معاملت سے 30 ہزار کروڑ روپئے مالیتی کنٹراکٹ حاصل کرسکے۔ تاہم ریلائنس گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈسالٹ ایویشن کی ریلائنس ایرپورٹ ڈیولپرس لمیٹڈ میں سرمایہ کاری کا رافیل جیٹ معاملت سے کوئی ربط نہیں اور اس نے کانگریس کو سیاسی اغراض و مقاصد کے لیے سفید جھوٹ بولنے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ ریلائنس نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت، فرانسیسی حکومت، ڈسالٹ اور ریلائنس متعدد موقعوں پر وضاحت کرچکے ہیں کہ جس طرح کانگریس نے الزام عائد کیا ہے اس طرح ریلائنس کو 30 ہزار کروڑ روپئے کا کوئی آفیسٹ کنٹراکٹ حاصل نہیں ہوا ہے۔ قبل ازیں 2 نومبر کو میڈیا کے ساتھ رابطے میں مادھون نے کہا تھا کہ ایچ اے ایل رافیل معاملت سے بالکلیہ دور ہے لیکن کسی مرحلہ پر وہ اس کا حصہ تھیں جو حقیقت نہ بن سکی۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے گزشتہ ماہ رافیل معاملت پر مودی حکومت کے خلاف اپنی مہم میں شدت پیدا کرتے ہوئے اسے جنگی نقطہ نظر سے کلیدی اثاثہ ایچ اے ایل کو نقصان پہنچانے کا مورد الزام ٹھہرایا اور اس کے ملازمین سے کہا تھا کہ رافیل ان کا حق ہے۔

TOPPOPULARRECENT