Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان تیزرفتار ترقی پذیر ملک : اقوام متحدہ

ہندوستان تیزرفتار ترقی پذیر ملک : اقوام متحدہ

2016ء میں شرح پیداوار 7.3 فیصد، 7.5 فیصد متوقع
نئی دہلی ۔ 22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی عالمی معاشی رپورٹ میں آج بتایا گیا ہیکہ ہندوستان اس دنیا کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن رہا ہے۔ اس کی سالانہ پیداوار 7.3 فیصد کے نشانہ کو پہنچ گئی ہے۔ سال 2016ء میں اگر یہ معاشی ترقی 7.3 فیصد ہے تو آنے والے سال 7.5 فیصد ہوگی۔ ہندوستان کی معیشت جو جنوبی ایشیاء کے جی ڈیپی کا 70 فیصد ہے سال 2016ء میں 7.3 فیصد ترقی کا نشانہ مقرر کیا گیا اور سال 2017ء میں 7.5 فیصد ترقی ہوگی جبکہ سال 2015ء میں اس ترقی کا تخمینہ 7.2 فیصد لگایا گیا تھا اس میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی معاشی صورتحال اور امکانات 2016ء کے عنوان سے جاری کردہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ ہندوستان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن رہا ہے۔ ساری دنیا کی معیشت میں ہندوستان کو تیز رفتار معاشی ترقی کا حامل ملک سمجھا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیاء سال 2016 اور 2017ء میں دنیا کا یہ تیزی سے ترقی کرنے والا خطہ بن جائے گا۔ اس خطہ کے دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی مائیکرو اکنامک ماحول بہتر ہورہا ہے۔ اس سے قبل دھاتوں اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے کمی لانے میں مدد مل رہی ہے۔ صارفین اور سرمایہ کاروں کے درمیان اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومت ہند کو اپنے وسیع تر بنیادوں پر تیار کردہ اصلاحات کے ایجنڈہ کو روبہ عمل لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض معاشی ماہرین نے اس طرح کی صنعتی پیداوار میں اضافہ انحطاط کا بھی اشارہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں ملکوں کی اکثریت آئندہ دو سال کے دوران تیزی سے معاشی ترقی کرنے والے ہیں جہاں پر مضبوط خانگی صارفین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور یہ صارفین ہی پیداوار کو بڑھانے والے اصل محرک ہیں۔ ہندوستان کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے ماہر معاشیات اور اقوام متحدہ کے جنوب اور جنوب مغربی ایشیاء کے سربراہ ناگیش کمار نے کہا کہ مالیاتی پالیسی کو استعمال کرتے ہوئے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تعلیم اور انفراسٹرکچرس سرمایہ کاری سے نہ صرف شرح پیداوار میں زبردست اضافہ ہوتا ہے بلکہ مستقبل کیلئے بھی یہ پیداوار ایک ریکارڈ نشانہ کو پہنچ جاتی ہے۔ نفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم پر خرچ کرنے سے مستقبل میں بہتر نتائج برآمد ہوں گے جبکہ اس خطہ کے دیگر حلقوں میں جیسے چین کے مقابل یہ سرمایہ کاری کم ہی ہے اس لئے یہاں پر وسعت دینے کی گنجائش پائی جاتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے بعض شعبوں میں راحت ملے گی اور ایندھن کے بلوں کا بوجھ کم ہوگا۔ لہٰذا ہندوستان کیلئے اب وقت آ گیا ہیکہ وہ اپنے مالیاتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لے اور مالیہ میں اضافہ کرے اس کے علاوہ سماجی شعبوں کیلئے مزید مالیاتی اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT