Thursday , June 21 2018
Home / دنیا / ہندوستان جیسے ملک کیساتھ کام کرنا اچھی علامت : ٹرمپ

ہندوستان جیسے ملک کیساتھ کام کرنا اچھی علامت : ٹرمپ

واشنگٹن ۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طبی جانچ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے، موصوف اب انتہائی محتاط انداز میں بیانات دے رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو پکڑ لے اور رائی کا پہاڑ بن جائے۔ ایسا ہی ایک بیان انہوں نے ہندوستان، روس اور چین سے متعلق دیا اور کہاکہ ان ممالک کے ساتھ کام کرنا ایک اچھی علامت ہے۔ یاد رہے کہ روس کے ساتھ امریکی تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک بیان بھی صدر ٹرمپ نے کچھ ہی دن قبل جاری کیا تھا جس پر کی جانے والی تنقیدوں کے بعد انہوں نے مذکورہ بالا جواب دیتے ہوئے کسی حد تک اپنے پچھلے بیان کا ازالہ کرنے کی کوشش ضرور کی۔ وائیٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے انہوں نے وزیراعظم ناروے ایرنا سالبرگ کے ساتھ خطاب کیا اور کہا کہ چاہے وہ روس ہو، ہندوستان ہو یا چین ہو، ان ممالک کے ساتھ کام کرنا بڑا اچھا لگتا ہے۔ یہ کوئی بری بات نہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے وہ مضبوط ترین فوجی، تیل اور گیس کے علاوہ زائد توانائی کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پوٹن کو یہ بات پسند نہ آئے۔ انہوں نے البتہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات میں ’’معمولی‘‘ سی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے لئے شمالی کوریا مسلسل درد سر بنا ہوا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کے مسئلہ کی بہت پہلے ہی یکسوئی کی جانی چاہئے تھی لیکن اسے بڑھاوا دیا گیا، ڈھیل دی گئی۔ ابتداء میں شمالی کوریا کا موقف اتنا خطرناک نہیں تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے خطرناک صورتحال اختیار کرلی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ اور دیگر کئی مسائل ان کی (ٹرمپ) جھولی میں ڈال دیئے گئے کہ ’’آئیے ان مسائل کو حل کیجئے‘‘۔ انہوں نے اس موقع پر 2016ء کے صدارتی انتخابات میں ان کی حریف ہلاری کلنٹن کو بھی تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موصوفہ طاقتور امریکی فوج کے حق میں نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ ملک کیلئے توانائی کو بھی وہ دیگر ذرائع سے حاصل کرنے کی خواہاں تھیں۔

TOPPOPULARRECENT