Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / ہندوستان سے معاشی امداد فراہم کرنے شام کی خواہش

ہندوستان سے معاشی امداد فراہم کرنے شام کی خواہش

نائب وزیراعظم ولید المعلم کی سشماسوراج اور اجیت ڈوول سے ملاقات، چار ہندوستانی نوجوان شامی حکام کی تحویل میں
نئی دہلی ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) شام نے آج کہا ہیکہ انٹلیجنس اطلاعات کے تبادلہ اور جنگ سے متاثرہ ملک کیلئے معاشی امداد بالخصوص غذائی اجناس اور ادویات کی فراہمی کے ضمن میں ہندوستان سے کی گئی درخواست پر مثبت ردعمل حاصل ہوا ہے۔ شام کے نائب وزیراعظم ولید المعلم نے جو اس وقت ہندوستان کے سہ روزہ دورہ پر ہیں، بتایا کہ شامی حکام نے چار ہندوستانی نوجوانوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی عہدیداروں سے خواہش ہیکہ وہ وہاں آکر ان چار نوجوانوں کی تنقیح کریں اور تمام تفصیلات معلوم کریں۔ یہ چار نوجوان آئی ایس میں شمولیت کیلئے اردن سے سرحدعبور کرکے شام میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 39 ہندوستانیوں کو جنہیں جون 2014ء میں آئی ایس نے عراقی شہر موصل میں یرغمال بنا لیا تھا، اگر عراقی فورسیس کی تحویل میں ہوں تو وہ ان کی رہائی کیلئے کوشش کرسکتے ہیں لیکن اب بھی آئی ایس کی تحویل میں ہوں تو وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ولید المعلم نے وزیرامور خارجہ سشماسوراج اور قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہاکہ مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا اور یہ بات چیت انتہائی مثبت و نتیجہ خیز رہی۔ شام نے ہندوستان کے ساتھ سیکوریٹی تعاون پر زور دیا ہے اور یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف

دونوں ممالک متحدہ مقابلہ کرسکتے ہیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک نے شام پر یکطرفہ تحدیدات عائد کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم بعض صوبوں میں خشک سالی کا سامنا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی سے لڑائی بھی جاری ہے۔ ان حالات میں ہم نے ہندوستان سے معاشی امداد چاول، گیہوں اور ادویات کی خواہش کی ہے۔ ولید المعلم نے آج ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سشماسوراج نے انہیں بتایا کہ ہندوستان عنقریب ایک ملین ڈالر مالیتی ادویات روانہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام ہندوستان کے ساتھ قدیم معاشی روابط کے احیاء کا خواہاں ہے۔ معلم نے کل ہندوستان آمد سے قبل روس اور چین کا بھی دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی تحدیدات اور دہشت گردی سے بری طرح متاثر ملک شام میں تقریباً 4 لاکھ بیارل تیل یومیہ آئی ایس سرقہ کررہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جنیوا کانفرنس میں شام کو ہندوستان سے کیا توقع ہے، معلم نے جو نائب وزیراعظم کے علاوہ وزیرخارجہ بھی ہیں، کہا کہ ان کا ملک کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہیں چاہتا اور ہندوستان سے صرف معاشی امداد کی توقع رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے عوام کو ہی دستور، پارلیمنٹ اور انتخابی عمل کے ذریعہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ جنیوا کانفرنس میں پہلے سے کوئی شرائط مسلط بھی نہیں کی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT