Sunday , February 25 2018
Home / Top Stories / ہندوستان فلسطینی عوام کے مفادات کی حمایت کے عہد کا پابند

ہندوستان فلسطینی عوام کے مفادات کی حمایت کے عہد کا پابند

وزیراعظم مودی کا تاریخی دورہ فلسطین ، سمجھوتوں پر دستخط ، صدر محمود عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

ہندوستان کو مشرق وسطیٰ میں
امن کی واپسی کی امید : نریندر مودی

رملہ ۔ /10 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج اپنے تاریخی دورہ فلسطین کے موقع پر صدر محمود عباس سے ملاقات کی ۔ بعد ازاں جانبین نے تقریباً 50 ملین امریکی ڈالر مالیتی سمجھوتوں پر دستخط کئے ۔ ان میں 3 کروڑ ڈالر کے مصارف سے ایک سوپر اسپیشیلٹی ہاسپٹل کا قیام بھی شامل ہے ۔ صدر عباس نے صدارتی احاطہ ’المقاطعہ‘ میں منعقدہ سرکاری تقریب میں وزیراعظم مودی کا استقبال کیا ۔ مودی فلسطین کا سرکاری دورہ کرنے والے ہندوستان کے پہلے وزیراعظم ہیں ۔ مذاکرات کے بعد انہوں نے میزبان صدر کو یقین دلایا کہ ہندوستان بدستور فلسطینی عوام کے مفادات کی حمایت کے عہد کا پابند رہے گا ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان اس علاقہ میں امن واپسی کی امید رکھتا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے صدر عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم جانتے ہیں کہ یہ (امن کی واپسی) آسان نہیں ہے ۔ لیکن ہمیں اس کے لئے سخت جدوجہد جاری رکھنا ہوگا کیونکہ اس سے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے ‘‘ ۔ صدر عباس نے اعتراف کیا کہ ہندوستانی قیادت ہمیشہ ہی فلسطین میں امن کی تائید کرتی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک آزاد مملکت کے حصول کے مقصد کیلئے فلسطین ہمیشہ ہی مذاکرات کیلئے تیار رہا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن کے عمل میں تعاون کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک قدآور بین الاقوامی آواز کی حیثیت سے ہندوستان کے رول پر ہم ہمیشہ انحصار کررے رہے ہیں اور غیر جانبدار تحریک اور دیگر تمام بین الاقوامی اداروں میں اس (ہندوستان) کے کلیدی رول کے علاوہ معاشی و حکمت عملی کی سطحوں پر اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ایک ایسے سازگار انداز میں استعمال کی خواہش رکھتا ہے ۔ جس سے ہمارے علاقہ میں منصفانہ اور مطلوبہ امن قائم ہوسکے ۔ صدر محمود عباس نے ہندوستان اور فلسطین کے مابین تعلقات کے فروغ میں وزیراعظم مودی کے کلیدی رول کا اعتراف کرتے ہوئے فلسطین کا اعلیٰ ترین اعزاز ’’گرینڈ کالر آف دی اسٹیٹ آف فلسطین‘‘ (عظیم طوق مملکت فلسطین) پیش کیا ۔ قبل ازیں سعودی عرب کے شاہ سلمان ، بحرین کے شاہ محمد ، چین کے صدر ژی جن پنگ اور دوسروں کو یہ اعزاز دیا گیا تھا ۔ جس پر مودی نے عباس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کو ہندوستان کیلئے قابل فخر اعزاز قرار دیا ۔ وزیراعظم مودی دورہ اردن کے بعد عمان سے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ رات رملہ پہونچے ، دوران پرواز اسرائیلی ہیلی کاپٹرس ان کے ہیلی کاپٹر کو اپنے محاصرہ میں لیکر نگرانی کررہے تھے ۔ رملہ میں واقع فلسطین کے صدارتی احاطہ پر لینڈنگ پر فلسطینی وزیراعظم رامی حمد اللہ نے ان کا استقبال کیا ۔ بعد ازاں انہوں نے المقاطعہ سے معروف صدارتی احاطہ میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے مقبرہ پر پھول چڑھاتے ہوئے خراج عقیدت ادا کیا اور متصلہ میوزیم کا معائنہ کیا ۔ ان کے استقبال کیلئے مسجد الاقصی کے علماء اور کتھولک چرچ کے پادری بھی گئے تھے ۔ مودی نے ایک ایسے وقت یہ دورہ کیا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے ایک نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے جس سے کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ مودی نے گزشتہ سال اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے دورہ فلسطین سے گریز کیا تھا ۔ جس کے بعد تجزیہ نگار ہند ۔ فلسطین تعلقات کے مستقبل پر سوال اٹھانے لگے تھے لیکن اس مرتبہ انہوں نے صرف فلسطین کا دورہ کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ تعلقات کو وہ ایک دوسرے سے مربوط کرنا نہیں چاہتا ۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے امریکہ کے یکطرفہ فیصلہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی میں بشمول ہندوستان 128 ملکوں نے چیلنج کیا ہے اور امریکہ کے فیصلہ کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے اس کو منسوخ و کالعدم قرار دیا تھا ۔صدر محمود عباس نے دو مملکتی حل کی مطابقت میں اسرائیل کے ساتھ منصفانہ و مطلوبہ امن کے حصول میں ہندوستان سے اپنا رول ادا کرنے کی خواہش کی ۔ انہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی سے ان کی ثمر آور اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے ، اس موقع پر انہوں نے ہندوستانی قائد کو فلسطین اور سارے علاقہ کی صورتحال سے واقف کروایا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’ہندوستان اور فلسطین کی دوستی پائیدار اور آزمودہ ہے ۔ فلسطینی عوام مختلف چیلنجوں کا سامنے کرتے ہوئے مثالی حیرت و حوصلہ مندی کا مظاہرہ کرچکے ہیں ۔ فلسطین کی ترقی کے سفر میں ہندوستان ہمیشہ اپنی مدد و حمایت جاری رکھے گا ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT