Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / ہندوستان میںاقلیتوں کیخلاف تعصب،مذہبی محرکات پر مبنی ہلاکتیں

ہندوستان میںاقلیتوں کیخلاف تعصب،مذہبی محرکات پر مبنی ہلاکتیں

حملہ آوروں کو کھلی آزادی ، متاثرین کی شکایات درج کرنے سے پولیس کا گریز ، مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں

اسکولوں میں ہندو دھرم کی تعلیم کیلئے حکام کی
تجویز پر اقلیتوں میں تشویش
اکثر واقعات میں قوانین کا غیرمساویانہ استعمال
مرکزی ، ریاستی اور مقامی سطحوں پر سرکاری
عہدیداروں کے تعصب کی شکایات
امریکی وزارت ِ خارجہ کی سالانہ رپورٹ

واشنگٹن۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزارتِ خارجہ نے مذہبی آزادی سے متعلق اپنی رپورٹ میں آج کہا کہ 2015ء کے دوران ہندوستان میں مذہبی محرکات پر مبنی ہلاکتوں، حملوں، جبری تبدیلی ٔ مذہب، فسادات کے علاوہ مذہبی عقائد بدلنے کیلئے عوام کے انفرادی حقوق پر کاری ضرب لگانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی محکمہ خارجہ اپنی سالانہ رپورٹ 2015ء میں کہا کہ ’’اقلیتی مذہبی گروپوں میں سرکاری عہدیداروں کے تجاویز اور حکومت کے تعصب پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، بالخصوص اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں ہندو دھرم کی تعلیم دی جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر سرکاری عہدیداروں نے اقلیتی مذہبی گروپوں سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف متعصب اور اشتعال انگیز بیانات دیئے ہیں‘‘۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’مذہبی محرکات پر مبنی تشدد اور دیگر مظالم کے خلاف اقلیتی گروپوں کے ارکان نے اس قسم کے واقعات پر پولیس کی عدم کارروائی کی شکایت بھی کی ہے‘‘۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملہ آور اکثر بلاخوف و خطر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور چند متاثرین کے مطابق پولیس نے کئی واقعات کی فوجداری شکایات درج کرنے سے پس و پیش بھی کیا اور حتی کہ کئی واقعات میں خود متاثرین کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ چند مذہبی گروپوں نے بعض سرکاری عہدیداروں کے ان بیانات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے

جس میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ سرکاری اسکولوں میں ہندو دھرم کی تعلیم دی جائے۔ اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والوں نے اپنی برادری کے ارکان کے خلاف تشدد اور مخاصمت کے واقعات میں پولیس کی سردمہری اور عدم کارروائی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات میں حکومت کی جانب سے تمام طبقات پر یکساں قانون کے استعمال سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔ مذہبی گروپوں نے سرکاری عہدیداروں کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ وزارت خارجہ کی رپورٹ میں اس بات کا واضح اعتراف کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے اس عہد کے باوجود بھی یہ تمام واقعات رونما ہورہے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں مذہبی عقائد کی مکمل آزادی کو یقینی بنائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے ہندوستان میں وزیراعظم مودی کے ایک سالہ دور حکومت کے دوران مذہبی آزادی کے موقف پر یہ تبصرے کئے ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’فروری کے دوران نئی دہلی میں وزیراعظم مودی نے عیسائیوں کے ایک اجلاس میں برسرعام اعلان کیا تھا کہ وہ مذہبی آزادی کی بھرپور مدافعت کریں گے۔ امریکی رپورٹ میں بشمول پنجاب ہندوستان کے مختلف حصوں میں عیسائی برادری کے خلاف تشدد کے الزامات کا دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف پولیس نے الٹا عیسائیوں کو نقص امن اور جبری مذہبی تبدیلی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا۔ گودھرا میں ٹرین کی ایک بوگی کو نذرآتش کرنے کے واقعہ اور اس کے 2002ء کے گجرات فسادات سے متعلق سینکڑوں مقدمات ہنوز زیرتصفیہ ہیں۔ گجرات فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ رپورٹ میں کہا ہے کہ فسادات میں ملوث سرکاری عہدیداروں کے خلاف ان کے رول کے الزامات پر کارروائی نہ کرنے سے متعلق گجرات ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف ذکیہ جعفری کی اپیل بھی ہنوز فیصلہ طلب ہے۔

TOPPOPULARRECENT