Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان میں اُردو کی ترویج جمہوریت کی بقا سے عبارت

ہندوستان میں اُردو کی ترویج جمہوریت کی بقا سے عبارت

اُردو یونیورسٹی میں جسٹس بی سدرشن ریڈی کا یوم تاسیس خطبہ۔ پروفیسر شکیل احمد کی بھی مخاطبت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : اردو کی ترویج و ترقی دراصل ہندوستان میں جمہوریت کے بقا اور تحفظ سے عبارت ہے۔ جمہوریت مختلف طبقوں کے درمیان تبادلۂ خیال اور سماج کے تمام افراد کی مشترکہ آرزوئوں کی تکمیل کے لیے سعی و عمل کا نام ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج جسٹس بی سدرشن ریڈی ، سابق جج سپریم کورٹ آف انڈیا نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے بیسویں یوم تاسیس کا خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر نے صدارت کی۔ جسٹس بی سدرشن ریڈی نے آئینِ ہند کی دفعہ 38 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قومی زندگی کے تمام اداروں کے ذریعہ سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف اور عوام کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس میں ملک کے مختلف علاقوں ، لوگوں یا مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کے درمیان مساوات قائم کرنے اور مواقع میں عدم توازن ختم کرنے جیسے اقدام کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ جسٹس ریڈی نے یونیورسٹی کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے افراد کو مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کے فروغ کی کوشش کرنے اور طلبہ کو انسانی اقدار کی بقا اور ترقی کے لیے کام کرنے کا پیام بھی دیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 20 برسوں میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جو تیز رفتار ترقی کی ہے اس میں اس کے سابق وائس چانسلروں پروفیسر محمد شمیم جیراجپوری، پروفیسر اے ایم پٹھان اور پروفیسر محمد میاں کا نمایاں کردار رہا ہے۔ یہ ترقی ممکن نہ ہوتی اگر اس سے وابستہ تمام اساتذہ، غیر تدریسی عملے کے ارکان اور طلبہ کا بھرپور تعاون نہ ملتا۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کی قیادت میں یونیورسٹی مسلسل ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT