Monday , February 19 2018
Home / Top Stories / ہندوستان میں ایک اور نربھیا….. اجتماعی عصمت ریزی کی ناکامی پر مسلم ٹیچر کو موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا

ہندوستان میں ایک اور نربھیا….. اجتماعی عصمت ریزی کی ناکامی پر مسلم ٹیچر کو موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا

الہ آباد۔ 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام)یوپی کے پرتاپ گڑھ ضلع میں ایک خاتون کے ساتھ وحشیوں نے خوفناک واردات انجام دیا ہے۔ اپنی عصمت بچانے کی مخالفت پر مسلم خاتون رابعہ کے ہاتھ پیر توڑڈالے اور پورے جسم کو چاقوئوں سے گود دیا۔ سنگین حالت میں علاج کے الے انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں اس نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ یہ واقعہ ٹھیک اسی طرح کا ہے جس طرح کی حیوانیت نربھیا کے ساتھ ہوئی تھی۔ خاتون کے ساتھ ہوئی حیوانیت دیکھ کر پولس اور ڈاکٹروں کے بھی رونگٹے کھڑے ہوئے، پولس کے مطابق ڈنڈے او رلوہے کی سلاخ سے پیٹ پیٹ کر خاتون کے ہاتھ پیر توڑے گئے ، جسم کا کافی حصہ ہڈی کے ٹوٹنے کی وجہ سے گھوم گیا تھا، جبکہ باقی جسم چاقوئوں سے گودا ہوا تھا جس کی وجہ سے گوشت باہر لٹک رہے تھے۔ قاتل اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے لیکن جب اسے اسپتال لے جایا گیا تو وہ زندہ تھی لیکن شدید زخمی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹراسے بچا نہ سکے۔ پولیس کے مطابق خاتون نے اسپتال میں اپنا آخری بیان دیا ہے۔ نصف درجن درندوں نے عصمت دری کی کوشش کی تھی لیکن خاتون کی مخالفت کی وجہ سے جب وہ کامیاب نہیں ہوئے تو اسے بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پڑوسیوں کی اطلاع پر پولس نے خاتون کو اسپتال پہنچایا ، لیکن حالت کی سنگینی کی وجہ سے اسے الہ آباد ریفر کردیاگیا۔ اسپتال میں خاتون نے اپنا بیان بھی دیا ہے لیکن اس کی جان نہیں بچ سکی۔ اطلاع کے مطابق پرتاپ گڈھ کے ٹیونگائوں کی رابعہ (24) پاس کے ہی انگلش اسکول میں ٹیچر تھی وہ پڑھی لکھی اور اپنے پیر پر کھڑی خاتون تھی۔ اس کے افراد خاندان دہلی میں رہتے تھے اور ہیں وہ یہاں اکیلی رہ رہی تھی، ہفتہ کی رات میں نصف درجن لوگ اس کے گھر میں گھسے اور عصمت ریزی کی کوشش کی۔ رابعہ نے اپنی طاقت کے مطابق اس کی مخالفت کی اور وحشیوں کو ان کے منصوبے میں کامیاب نہیں ہونے دیا، رابعہ کی مخالفت پر وحشیوں نے لاٹھی، ڈنڈے اور لوہے کی راڈ سے اس کے ہاتھ پیر توڑڈالے۔ چیخ وپکار سن کر پڑوسی رابعہ کے گھر کی جانب دوڑے تو اسے مردہ سمجھ کر قاتل فرار ہوگئے۔ گھر کے اندر جب پڑوسی پہنچے تو رابعہ کا حال دیکھ کر ہر کوئی سہم گیا، رابعہ کا جسم پوری طرح سے خون سے لت پت تھا، آنا فاناً پولس کو اطلاع دی گئی اور اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کیاگیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔

TOPPOPULARRECENT