Thursday , November 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان میں سیریز کیلئے پاکستان کو دعوت ، پی سی بی اور بی سی سی آئی کے متضاد دعوے

ہندوستان میں سیریز کیلئے پاکستان کو دعوت ، پی سی بی اور بی سی سی آئی کے متضاد دعوے

شہریار خاں سے فون پر بات چیت لیکن رسمی دعوت نہیں دی گئی ، ششانک منوہر کی وضاحت ، پاکستان متحدہ عرب امارات میں کھیل پر اٹل
کراچی ؍ نئی دہلی ۔ 14 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ بورڈ نے آج دعوی کیا کہ بی سی سی آئی نے اُن کی ٹیم کو آئندہ ماہ ہندوستان میں کھیلنے کیلئے مدعو کیا ہے لیکن اُن کے ہندوستانی ہم منصب نے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ اس ضمن میں فی الحال کوئی رسمی تجویز پیش نہیں کی گئی ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) کے چیرمین شہریاخان نے لاہور میں میڈیا سے کہا کہ ان کے ہندوستانی ہم منصب ششانک منوہر نے گزشتہ روز ٹیلی کال کیا تھا اور کھیل کیلئے رسمی تجویز پیش کی ۔ شہریار خان نے مزید کہاکہ ’’ششانک منوہر نے جمعہ کی شام مجھ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور کہا کہ انھوں نے ہمارے خلاف کھیلنے کیلئے حکومت سے منظوری حاصل کرلی ہے لیکن انھوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں نہیں بلکہ ہندوستان میں کھیلی جائے ‘‘ ۔ تاہم بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر نے پی ٹی آئی سے آج کہا کہ ہند ۔ پاک کھیل کی منظوری کیلئے تاحال وہ حکومت سے رجوع نہیں ہوئے ہیں اور اس ضمن میں دیا گیا بیان درست نہیں ہے ۔ منوہر نے کہاکہ ’’یہ ایک غیردرست بیان ہے ۔ حکومت سے تاحال ہم رجوع نہیں ہوئے ہیں۔ جی ہاں ! میں نے اُن ( شہریارخان) سے فون پر بات چیت کی ہے

اور آئندہ دو دن میں ہم مزید بات چیت کرسکتے ہیں ‘‘ ۔ شہریار خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مجوزہ سیریز کے دوران بی سی سی آئی نے پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے نقصان سے پاک سکیورٹی انتظامات کا وعدہ بھی کیا ہے اور منوہر کے حوالہ سے کہا کہ موہالی اور کولکتہ جیسے مقامات پر میچ منعقد کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔ شہریارخان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے منوہر کو مطلع کیا ہے کہ بی سی سی آئی کے ساتھ طئے شدہ یادداشت مفاہمت کے مطابق پاکستان ڈسمبر کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہی ہندوستان کے خلاف سیریز کھیلنا چاہتا ہے ۔ شہریار خان نے کہاکہ ہم اپنی ہوم سیریز ہندوستان میں کیوں کھیلیں اور متحدہ عرب امارات میں کیوں نہ کھیلا جائے ۔ ہمارے لئے سب سے اہم ہمارے کھلاڑیوں کی سکیورٹی کا مسئلہ ہے اور پھر تقریباً 50 ملین امریکی ڈالر ہیں ، اس سیریز کی میزبانی سے ہمیں یہ آمدنی متوقع ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ ششانک منوہر سے کہہ چکے ہیں کہ بعض گروپوں کی جانب سے مخالف پاکستان جذبات کے پیش نظر ہم کس طرح ہندوستان میں کھیل سکتے ہیں۔ ہندوستان میں ہم دو سیریز کھیل چکے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اب ہماری میزبانی کا وقت آگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT