Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان میں صحافت کو آزادی حاصل : کرن رجیجو

ہندوستان میں صحافت کو آزادی حاصل : کرن رجیجو

چین میں میڈیا حکومت کے تابع ، ملک کی سلامتی کو داعش سے خطرہ

l ملک کی سرحدوں پر چیلنجس کا سامنا
l سکیورٹی پر وزیراعظم مودی کی خصوصی توجہ
l کیرلا میں’’لو جہاد‘‘ کے واضح ثبوت موجود
l اسد اویسی کے تبصرہ پر شدید تنقید
حیدرآباد۔ 17 اگست (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے آج کہا کہ ہندوستان اور چین میں میڈیا کا کوئی تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ اس ملک میں صحافت کو مکمل آزادی حاصل ہے اور اسے دستور کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے جبکہ پڑوسی کمیونسٹ ملک میں عام طور پر میڈیا حکومت کے تابع رہتا ہے۔ انہوں نے یہ تبصرہ ایک طالب علم کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کیا۔ ڈوکلم تعطل کے پیش نظر چین کے میڈیا میں مختلف کہانیاں گھڑی جانے سے متعلق ایک طالب علم نے سوال کیا تھا، تاہم رجیجو نے ڈوکلم تعطل پر پوچھے گئے کئی سوالات کو ٹال دیا اور کہا کہ ہندوستان میں میڈیا کو مکمل آزادی حاصل ہے جبکہ چین کے اخبار ’’پیپلز ڈیلی‘‘ اور دیگر ادارہ جات پر بنیادی طور پر کمیونسٹ پارٹی کا کنٹرول حاصل ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نے ہندوستان کی سرحدوں پر بڑھتے چیلنجس کے متعلق کہا کہ مودی حکومت کے تحت سرحدوں پر سکیورٹی کو سخت کردیا گیا ہے۔ پڑوسی ممالک سے متصل سرحدوں پر لاحق خطرات سے زیادہ اب ہندوستان کو ملک ِشام میں واقع آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیموں سے بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ جموں و کشمیر، شمال مشرقی جیسی ریاستوں کے اندر بھی کئی مسائل اور چیلنجس ہیں۔ نیشنل سرویس اسکیم عثمانیہ یونیورسٹی اور نہرو یووا کیندرا سنگھٹن، وزارت یوتھ افیرس کی جانب سے ’’قومی سلامتی : مودی حکومت کی کوششیں اور کارنامے‘‘ کے زیرعنوان یہاں منعقدہ یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جس ملک میں امن نہیں ہوتا، وہاں ترقی نہیں ہوسکتی۔ ملک کے اندر انٹلیجنس ایجنسیوں نے رپورٹ دی ہے کہ قومی سطح پر آئی ایس آئی، دہشت گردوں اور ماؤسٹوں جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ نریندر مودی حکومت نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر بین الاقوامی فورم سے اپنی حکومت کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ ’’لو جہاد‘‘ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کیرلا میں حالیہ لو جہاد کیس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ہنوز موجود ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کرنے این آئی اے کو جائز طور پر اجازت حاصل ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کل ہی این آئی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ کیرلا میں ایک ہندو خاتون کی مسلم شخص سے شادی اور تبدیلی مذہب کے کیس کی تحقیقات کرے۔ رجیجو نے کیرلا میں لو جہاد کے بارے میں ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی کے تبصرہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد اس مسئلہ پر سیاسی نکتہ چینی نہیں کریں گے۔ این آئی اے کو لو جہاد کے واقعات کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT