Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / ہندوستان میں فرقہ پرستی کا مستقبل تاریک: شاہی امام

ہندوستان میں فرقہ پرستی کا مستقبل تاریک: شاہی امام

نئی دہلی۔/19ستمبر، ( فیکس ) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپنی اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنے اور ملی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی اور عیدالاضحی کو سادگی کے ساتھ منانے کی اپیل کی۔شاہی امام نے ضمنی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فرقہ پرست لیڈروں نے مل

نئی دہلی۔/19ستمبر، ( فیکس ) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپنی اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنے اور ملی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی اور عیدالاضحی کو سادگی کے ساتھ منانے کی اپیل کی۔شاہی امام نے ضمنی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فرقہ پرست لیڈروں نے ملک کے عوام کو اشتعال دلانے اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر ووٹنگ کرنے کی ترغیب دی لیکن انہیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا، اورایک بار پھر ثابت ہوگیا کہہندوستان میں فرقہ پرستی کا مستقبل تاریک ہے اور فرقہ پرستی کا زہر گھولنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہ لوگ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں ملک کے بھی دشمن ہیں اور حکومت کے مشن کو بھی نقصان پہنچانے کا کام کررہے ہیں۔ مسلمان ملک کا وفادار ہے اس کی خدمات اظہر من الشمس ہیں اور ان کے خلاف جھوٹے پروپگنڈے اسی طرح ناکام ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحی قریب ہے اور ملک میں مسلمانوں کا یہ تہوار خراب نہ ہو اس کے لئے حکومت کو موثر کارروائی کرنی چاہیئے۔

تہاڑ جیل میں سلمان اور یاض الدین نامی 38سالہ قیدی کی موت نے ایک بار پھر تہاڑ کی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ پہلے مسلم قیدیوں کی مشکوک حالت میں موت ہوچکی ہے اور رشتہ دار اسے قتل کی سازش قرار دے رہے ہیں، اس بارے میں تحقیقات ہونی چاہیئے ۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے 6سال مکمل ہونے کے بعد بھی اہل علاقہ کا یہ مطالبہ قائم ہے کہ حکومت اس فرضی انکاؤنٹر کی اعلیٰ سطحی عدالتی کارروائی کرائے اور بٹلہ ہاؤس اور پورے علاقہ کو دہشت گردی سے جوڑے جانے کے اقدامات پر حقائق کو سامنے لائے۔انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ درست ہے اور حکومت کو بغیر مطالبہ کے ہی عدالتی تحقیقات کرانی چاہیئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دوبڑے ہسپتالوں کے اس علاقہ میں ہونے کی وجہ سے یہاں آبادی روز بروز بڑھ رہی ہے اور کچھ فرقہ پرست لیڈر اسے مسلم دہشت گردی کا نام دے رہے ہیں یہ غلط ہے۔

TOPPOPULARRECENT