ہندوستان میں مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن میں اگلے ہفتہ سماعت

واشنگٹن۔ 5 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے مرکزی کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے موضوع پر خاص طور پر ہندوستان میں مذہبی عقائد کی آزادی کے موضوع پر اگلے ہفتہ سماعت کرے۔ اس سماعت کا موضوع ’’ہندوستان میں مذہبی عقائد کی آزادی: بڑھتے ہوئے چیلنجس اور امریکی پالیسی کے لئے نئے مواقع‘‘ ہوگا۔ یہ سماعت 12 ڈسمبر کو مقرر ہے۔ مذہبی آزادی کو درپیش چیلنجس کا جائزہ لیا جائے گا اور امریکی پالیسی سازوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ ہندوستان میں مذہبی عقائد کی آزادی کا تحفظ کرنے کیلئے پالیسی مدون کریں۔ صدرنشین امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ٹین زن ڈورجی نے آج اس کا اظہار کیا۔ یہ ایک آزاد اور غیرجانبدار امریکی مرکزی حکومت کا کمیشن ہے جو 1998ء میں قائم کیا گیا تھا۔ مذہبی آزادی کی بیرون ملک خلاف ورزیوں اور صدر امریکہ کو پالیسی کی سفارشات پیش کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔ وہ اپنی سفارشات وزیر خارجہ امریکہ اور امریکی کانگریس کے ارکان کو بھی روانہ کرے گا۔ ہندوستان ماضی میں اس کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرچکا ہے اور ادعا کیا ہے کہ اس کے ادارے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق بشمول اعلیٰ درجہ کے ہندوستانی شہریوں کو دستوری تحفظ کے حقوق عطا کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان میں مذہبی انتہا پسندوں نے دھمکی دی ہے کہ لوگوں کو ہراساں کیا ہے اور بعض اوقات مذہبی اقلیت کے ارکان کا قتل بھی ہوا ہے یا پھر ان لوگوں کو قتل کردیا گیا جو اپنا مذہب تبدیل کردیتے ہیں۔ ڈورجی نے سماعت کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے اس کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں سے دستور ہند اور تمام ہندوستانیوں کو جن کی تعداد لاکھوں میں ہے، بنیادی حقوق اور آزاد مذہبی عقائد فراہم کرنے کا ہندوستانی ادعا مشکوک ہوجاتا ہے۔ ہندوستانیوں شہریوں کو یا تو عملی اعتبار سے اپنے عقائد پر آزادی سے عمل آوری کرنے اور ان کے مطابق زندگی گذارنے کا موقع نہیں ملتا اوروہ تشدد کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ امریکہ کے ادارہ کو پہلی مرتبہ ایک آزادی تبتی شہری صدرنشین حاصل ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT