Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل ،فرقہ پرستوں کیلئے ’تمغۂ اعزاز‘!

ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل ،فرقہ پرستوں کیلئے ’تمغۂ اعزاز‘!

بی جے پی حکومت کی حوصلہ افزائی سے چار سال کے دوران ہجومی تشدد کے واقعات میں اضافہ
سپریم کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ اندرا جئے سنگھ کا استدلال

نئی دہلی ۔ 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں مسلمانوں کو قتل کرنا، ہجومی تشدد کے ذریعہ نشانہ بنانا فرقہ پرستوں کیلئے تمغۂ اعزاز بن گیا ہے۔ ہجومی تشدد کی حوصلہ افزائی کے باعث مسلمانوں کو آئے دن زدوکوب کرکے ہلاک کیا جارہا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ اندرا جئے سنگھ نے گاؤ رکھشکوں اور ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنی تحریری درخواستوں میں کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو زدوکوب کرنا حملہ آوروں کیلئے تمغۂ اعزاز بن گیا ہے۔ درحقیقت مس جئے سنگھ نے الزامات عائد کئے کہ بی جے پی کی جانب سے متواتر کی جانے والی حوصلہ افزائی کے باعث گذشتہ 3 تا 4 سال کے دوران ہندوستان میں ہجومی تشدد کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ ان واقعات کو استقدامی اثر کے ساتھ روکنے کیلئے فوری مداخلت کرے۔ انہوں نے حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، خصوص کر آرٹیکل 21 کے تحت شہریوں کی زندگی کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کا فریضہ ہے۔ آرٹیکل 14 کے تحت بھی شہریوں کے یکساں حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ ملک میں ہر گذرتے دن ہجومی تشدد کے واقعات کو روکنے میں حکومت نہ صرف مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ میں بھی ناکام ہے بلکہ وہ ان جرائم کے مرتکب خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی انکار کررہی ہے۔ مس جئے سنگھ نے اپنی تحریری درخواست میں امریکہ میں پیش آنے والے ماضی کے واقعات اور ہجومی تشدد کی تاریخ کو پیش کرتے ہوئے لکھا کہ افریقی امریکیوں پر ہونے والے ظلم و زیادتیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں 2014ء اور اگست 2017ء کے درمیان ہجومی تشدد کے زائد از 70 واقعات پیش آئے ہیں۔ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں نہ صرف ناکام ہوئی ہے بلکہ یہ واقعات شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ ایسے واقعات میں لگاتار اضافہ ہونا ایک ناکام حکمرانی کا ثبوت ہے۔ دستور ہند کے آرٹیکل 14 اور 21 میں حقوق زندگی اور مساوات کی ضمانت دی گئی ہے لیکن حکومت اس مسئلہ پر خاموش ہے۔ ماضی قریب میں خودساختہ گاؤرکھشکوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیکر نہ صرف مسلم شہریوں کو نشانہ بنایا بلکہ ان پر جھوٹے الزامات بھی عائد کئے ہیں کہ یہ لوگ اپنے پاس گائے رکھتے ہیں اور انہیں ذبح کرتے ہیں، گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور ان کا لباس بھی خاص نوعیت کا ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت اس تشدد کو روک سکتی تھی لیکن اس نے ہجومی تشدد کی مجرمانہ طور پر حوصلہ افزائی کی۔ حکومت اپنے دستوری فرائض سے پہلوتہی کرتے ہوئے مسلمانوں کو گاؤرکھشکوں کے ظلم کے سامنے جھونک دیا۔ سینئر ایڈوکیٹ اندراجئے سنگھ نے مزید کہا کہ ہجومی تشدد کے واقعات کے ملنے والے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہیکہ ان حملوں کا شکار ابتدائی طور پر مسلمان اور دلت افراد ہوئے ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہیکہ سب سے زیادہ مسلمان ہی ہلاک کئے گئے ہیں۔ مسلمانوں پر کئے گئے حملوں اور ہجومی تشدد میں گاؤرکھشکوں کی ظلم و زیادتیاں، قتل و غارتگری، اقدام قتل، ہراسانی، چھیڑخانی یہاں تک کہ عصمت ریزی کے واقعات بھی ہورہے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ مرکزی حکومت کو پابند کرتے ہوئے یہ ہدایت دے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنے عاملہ اختیارات کو بروئے کار لائے۔ حکومت ہند کا یہ فریضہ ہیکہ وہ جس مقصد کے تحت اقتدار کا باگ ڈور سنبھالا ہے وہ اپنے فریضہ کو بروئے کار لاتے ہوئے شہریوں کا تحفظ کرے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے قانونی دفعات کا استعمال کرے۔ ہندوستان کی تقریباً ہر ریاست میں مسلمانوں اور دلتوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ واقعات ملک گیر سطح پر فرقہ پرستوں کیلئے طمغۂ اعزاز سمجھے جارہے ہیں۔ دستور کے آرٹیکل 256 کو فوری روبہ عمل لاتے ہوئے ریاستوں کو ہدایت دی جائے کہ وہ تشدد کے واقعات کو فوری روک دیں۔ اس تحریری درخواست کو وکلاء وارثا فراست رودرکشی دیو اور حفصہ خاں نے تیار کیا ہے جبکہ اے او آر شاداں فراست نے داخل کیا۔ مسلمانوں کے لباس کرتاپائجامہ یا سر پر ٹوپی ان کے وضع قطع دیکھ کر انہیں ہراساں کرنا اور زدوکوب کرنا ایک عام بات بن گئی ہے۔ داڑھی رکھنے والوں کو خاص کر ہراساں کرتے ہوئے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT