Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / ہندوستان میں مسلمانوں کی اچھی کارکردگی، اوباما کا ادعا

ہندوستان میں مسلمانوں کی اچھی کارکردگی، اوباما کا ادعا

واشنگٹن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دنیا بھر کے ممالک جیسے ہندوستان میں جہاں دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی ہے، مسلمانوں کے کارہائے نمایاں کی ستائش کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے اعتراف کیا کہ امریکہ میں کئی گوشوں میں اس برادری کے امیج کو ’’بگاڑا‘‘ ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ مغرب میں لوگوں کو اسلام کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوتی

واشنگٹن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دنیا بھر کے ممالک جیسے ہندوستان میں جہاں دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی ہے، مسلمانوں کے کارہائے نمایاں کی ستائش کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے اعتراف کیا کہ امریکہ میں کئی گوشوں میں اس برادری کے امیج کو ’’بگاڑا‘‘ ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ مغرب میں لوگوں کو اسلام کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوتی ہے ان کا ذریعہ میڈیا ہوتا ہے جبکہ امریکہ جیسے ممالک میں مسلمانوں کی نسبتاً کم آبادی ہے جس کے سبب کئی لوگوں کو واضح نظریہ معلوم نہیں ہوتا کہ مسلم شخصی طور پر کیسا فرد ہوتا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں انسداد پرتشدد انتہاء پسندی کے بارے میں وائیٹ ہاؤس میں منعقدہ چوٹی اجلاس میں اپنے اختتامی تبصرہ میں اوباما نے اس تکلیف دہ سچائی کا بڑی جرأتمندی سے تذکرہ کردیا جو آج امریکہ میں امریکیوں کو درپیش چیلنج کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو امیج مسلمانوں یا اسلام کا منظرعام پر خبروں کے ذریعہ آتا ہے اسے ہی اصلی باور کرلیا جاتا ہے اور موجودہ خبروں کے نہج کو دیکھتے ہوئے اس تعلق سے تصدیق ہوجاتی ہے۔ کافی خراب خبریں اسلام کے تعلق سے پیش کی جاتی ہیں جیسے دہشت گردی کو اس مذہب سے جوڑنا ، جو عام آبادی کے ذہنوں میں غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ اس اجلاس میں ہندوستانی وفد کی نمائندگی آر این روی، چیرمین جوائنٹ انٹلیجنس کمیٹی نے کی۔ اوباما نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے کارہائے نمایاں بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے متعدد بزنس لیڈرس آئے ہیں جہاں بڑی مسلم آبادی ہے۔

دہشت گردی کا مقابلہ ناممکن نہیں، صرف دشوار: امریکہ
واشنگٹن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائیس نے دہشت گردی اور تشدد کے نظریات سے پاک صاف و محفوظ دنیا کی تعمیر کے عہد کی تجدید کرنے پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پرتشدد انتہاء پسندی کے خلاف مقابلہ ناممکن نہیں بلکہ ایک دشوار گذار چیلنج ہے۔ رائیس نے گذشتہ روز کہا کہ ’’پرتشدد انتہاء پسندی کے خلاف مقابلہ ایک مشکل چیلنج ہے لیکن اس کا خاتمہ ناممکن نہیں ہے جس میں کامیابی کے وقت کی پیمائش کئی دہائیوں میں نہیں تو کم سے کم کئی برسوں میں ہوگی لیکن ہمیں جدوجہد جاری رکھنا ہوگا اور اس کیلئے ہمیں مشترکہ طور پر ایسی پیشکش کرنا ہوگا جس کے بارے میں مزید انصاف، مزید مساوات اور مزید پرامن دنیا سے متعلق دہشت گرد کوئی مثبت نظریہ نہیں رکھے‘‘۔ رائیس نے پرتشدد انتہاء پسندی کے مقابلہ کیلئے وائیٹ ہاؤز کی سہ روزہ 9 ویں چوٹی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں مزید کہاکہ ’’دہشت گردی اور تشدد سے غیرمتاثر دنیا کی تعمیر کیلئے ہم آج اپنے عہدیدار کی تجدید کیساتھ یہاں سے واپس جائیں‘‘۔ اس کانفرنس میں بشمول ہندوستان، 70 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر اوباما نے پرتشدد دہشت گردی سے مقابلہ جیسے پراجکٹوں کے بشمول دہشت گردی کے خلاف مقابلہ میں مدد کیلئے محکمہ خارجہ سے 400 ملین ڈالر دینے کی درخواست کی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT