Wednesday , November 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان میں ٹی 20 میچس کا بائیکاٹ نہ کرنے پی سی بی کو مشورہ

ہندوستان میں ٹی 20 میچس کا بائیکاٹ نہ کرنے پی سی بی کو مشورہ

باہمی سیریز مستقبل میں قریب میں ممکن ہوسکتی ہے ۔ یونس خان اور وقار یونس اختلافات ختم کرلیں ‘ وسیم اکرم کا خطاب

کراچی 13 لاسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہند ۔پاک باہمی کرکٹ سیریز کیلئے ہندوستان کی جانب سے منظوری میں مسلسل تاخیر سے قطع نظر سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ آئندہ سال مارچ ۔ اپریل میں ورلڈ ٹی 20 کے دوران ہندوستان میں میچس کے بائیکاٹ پر غور نہ کرے ۔ وسیم اکرم نے کراچی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ ہندوستانیوں نے پاکستان کے ساتھ باہمی سیریز کے تعلق سے فیصلہ کرنے کافی سے زیادہ وقت لیا ہے تاہم اگر یہ سیریز اب نہیں بھی ہوتی ہے تو مستقبل قریب میں ضرور ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقینی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ کو یہ واضح جواب دینا چاہئے کہ وہ پاکستان کے ساتھ باہمی سیریز کھیلنا چاہتا ہے یا نہیں ۔ اس مسئلہ کو حل کرلینے کی ضرورت ہے ۔ وسیم اکرم نے تاہم کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو موجودہ صورتحال میںہندوستان میں ورلڈ ٹی 20 میچس کے بائیکاٹ کے تعلق سے سوچنا بھی نہیں چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ ٹی 20 ایک آئی سی سی ٹورنمنٹ ہے اور ہمیں کسی بھی قیمت میں اس میں حصہ لینا چاہئے ۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو طویل وقت میں اس سے ہمیں ہی نقصان ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ ٹی 20 میں شرکت نہ کرنے سے خود ہماری کرکٹ اور خود ہمارے کھلاڑیوں کو نقصان ہوگا ۔ اگر ہندوستان ہم سے نہیں کھیلنا چاہتا ہے تو کوئی بات نہیں ۔ ہم اس کے بغیر بھی رہ سکتے ہیں۔ لیکن ہم کھیلتے ہیں یا نہیں بھی کھیلتے ہیں تو اس سے دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ۔ بائیں ہاتھ کے سابق اسٹار بولر نے کہا کہ انہیں ہمیشہ ہی ہندوستان میں وہی محبت اور ستائش ملی ہے جو پاکستان کے عوام نے ہمیشہ ہی سچن تنڈولکر کو دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم باہمی کرکٹ کھیلتے ہیں تو یہ دونوں کیلئے اچھا ہوگا ۔ وسیم اکرم نے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس اور سینئر بلے باز یونس خان کو بھی مشورہ دیا کہ وہ باہمی بات چیت سے اپنے اختلافات کو دور کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے یہ دونوں راست یا بالواسطہ طور پر اختلافات کا شکار ہیں وہ ہماری کرکٹ کیلئے اچھا نہیں ہے ۔ اگر ان میں کچھ اختلافات ہیں تو وہ آپس میں حل کرلئے جانے چاہئیں۔ انہوںنے کہا کہ بحیثیت ہیڈ کوچ وقار یونس کو قدرے نرم ہونا چاہئے اور کھلاڑیوں کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کی ضرورت ہے ۔ اگر ہر مسئلہ کا حل جرمانہ ہی ہوتا تو اب تک وقار یونس پر بھی لاکھوں روپئے کا جرمانہ ہوجاتا ۔ اس تقریب میں یونس خان نے بھی شرکت کی اور انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین باہمی کرکٹ کا مستقل پروگرام طئے ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر اب ہندوستان سے کھیلتے ہیں تو پھر یہ مستقل اساس پر ہونا چاہئے اور یہ کوشش ہونی چاہئے کہ دونوں ملکوں کے مابین باقاعدگی کے ساتھ میچس ہوتے رہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT