Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان میں پیدا ہونے والے ہندو ہونا ضروری نہیں

ہندوستان میں پیدا ہونے والے ہندو ہونا ضروری نہیں

سیاسی پارٹیوں کو ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کا حق نہیں : شنکراچاریہ
متھرا (یوپی) ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دوارکا ۔ شاردا پیٹھ کے شنکر اچاریہ سوامی سواروپ نند سرسوتی نے کہا ہیکہ ایسا دعویٰ کرنے کی کوئی منطق نہیں کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے افراد ہندو کہلاتے ہیں، اور زور دیا کہ اس طرح کے دعوؤں سے سماج کا بنیادی ڈھانچہ ختم ہوجائے گا۔ وہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر ردعمل ظاہر کررہے تھے کہ ہندوستان میں رہنے والا کوئی بھی شخص ہندو ہے۔ شنکراچاریہ نے برنداون میں اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ہندوستان میں پیدائش والے فرد کا ہندو ہونے کا نظریہ غیرمنطقی ہے اور اس طرح کی باتوں سے سماج کا تانا بانا بکھر جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ حقیقی ہندو کا ویدوں اور شاستروں پر اعتقاد ہوتا ہے جبکہ مسلمان قرآن و حدیث پڑھتے ہیں اور عیسائی انجیل کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ اس ہفتہ کے اوائل تریپورہ میں ایک اجتماع سے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان بھی درحقیقت ہندو ہی ہیں۔ ایودھیا مندر تنازعہ کے بارے میں شنکراچاریہ نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کا کوئی حق نہیں۔ صرف شنکر اچاریہ اور دھرم اچاریہ جیسے مذہبی رہنما ہی ایودھیا میں مندر کی تعمیر کا حق رکھتے ہیں۔ حکومت بھی مندر تعمیر نہیں کرسکتی کیونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال پر پیدا ہونے والے تنازعہ کے سلسلہ میں ہندو مذہبی قائد نے کہا کہ وہ بیالٹس پیپر کے استعمال کے حق میں ہے۔ اگر کئی سیاسی پارٹیاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال نہیں چاہتی ہیں تو الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ ان مشینوں کو استعمال کرنے پر ضد نہ کریں۔ گنگا اور جمنی ندیوں میں آلودگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان دونوں ندیوں سے گذرنے والے ڈیمس اور بیرجس کو بند کردے۔ اس کے بعد ہی ان ندیوں میں قدرتی طور پر پانی کا بہاؤ بڑھے گا۔

TOPPOPULARRECENT