Wednesday , June 20 2018
Home / ہندوستان / ہندوستان میں ہر شخص بدعنوان نہیں:پی چدمبرم

ہندوستان میں ہر شخص بدعنوان نہیں:پی چدمبرم

نئی دہلی ۔ 12 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں وسیع پیمانہ پر کلیدی بدعنوانی کے تعصب کا ازالہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج کہا کہ ہر شخص بدعنوان نہیں ہے اور نگرانکار محکموں سے خواہش کی کہ صرف اسی وقت مداخلت کریں جب واضح طورپر فوجداری مقدمہ قائم ہوتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ بدعنوانی کو نظرانداز نہیں کر رہے ہیں لیکن ہر

نئی دہلی ۔ 12 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں وسیع پیمانہ پر کلیدی بدعنوانی کے تعصب کا ازالہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج کہا کہ ہر شخص بدعنوان نہیں ہے اور نگرانکار محکموں سے خواہش کی کہ صرف اسی وقت مداخلت کریں جب واضح طورپر فوجداری مقدمہ قائم ہوتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ بدعنوانی کو نظرانداز نہیں کر رہے ہیں لیکن ہر شخص سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہر شخص کو بدعنوان نہ سمجھیں۔ یہ بدترین قسم کا رویہ ہے جو ہم اختیار کرسکتے ہیں۔ چدمبرم نے کہا کہ یہ تصور کہ ہندوستان سب سے زیادہ بدعنوان ملک ہے، ہندوستانی دنیا میں سب سے زیادہ بدعنوان ہیں، قطعی غلط ہے۔ وہ مرکزی نگرانکار کمیشن کے جشن زریں سے خطاب کر رہے تھے، مرکزی وزیر نے کہا کہ نگرانکار محکموں کو صرف اسی صورت میں مداخلت کرنی چاہئے جب واضح طور پر فوجداری مقدمہ قائم ہوتا ہو۔ اسی طرح ان کے کام کا بوجھ کم ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجرمانہ انحراف کہ کسی بھی واقعہ کی نگرانکار محکموں کی جانب سے تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کارپوریٹ اقدار سے متعلق مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں افراد پر لاگو ہونے والے معیاروں کی پیروی نہیں کرسکتیں۔ آپ ان سے انفرادی اقدار کے احترام کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ قانون اس بارے میں بالکل واضح ہے۔ اگر کارپوریٹ ادارے قانون کی پابندی کرتے ہوں تو ان کے اقدار پر اقرار نہیں کیا جاسکتا۔ چدمبرم نے کہا کہ کارپوریٹ اداروں سے کسی ناقص قانون کی پابندی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

اگر قانون نافذ ہے تو اسے بدل دینا چاہئے ۔ یو پی اے حکومت کی دوسری میعاد میں عائد کئے جانے والے بدعنوانیوں کے کئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ اختیارات کا احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمپنیوں کے نئے قانون کے چوکھٹے کی بھرپور تائید کرتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ اختیارات محتاط انداز میں استعمال کئے جائیں۔ قانون کی تعمیل کروانے میں خود احتسابی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو بہترین تعلیم فراہم کرنی چاہئے اور اشیاء کو ان کے حقیقی روپ میں پیش کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہر شخص کیلئے قانون کی تعمیل کروانے سے پہلے خود احتسابی ضروری ہے ۔ بورڈ آف ڈائرکٹرس اور شیئر ہولڈرس کی باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ صرف استثنائی معاملات میں ہی نگرانکار محکموں کو دخل دینا چاہئے اور اجتماعی سنگین معاملات جو مسلمہ طور پر مجرمانہ ہوں، خاطیوں کو سزا دینی چاہئے ۔ گزشتہ سال پارلیمنٹ میں منظورہ کمپنیوں کے ایکٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی دفعات سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کرتی اور کارپوریٹ اداروں کی غلط کاریوں کا انسداد کرتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT