ہندوستان میں ہندوؤں کیساتھ اجنبیوں جیسا سلوک !

رام مندر کی تعمیر کیلئے آرڈیننس کا راستہ اپنانے کا مطالبہ ، کولکاتا میں سادھوی سرسوتی کا خطاب

’’ ہندو نوجوان قیمتی موبائیل خریدنے پر
پیسہ خرچ کرنے کے بجائے تلوار خریدیں‘‘

کولکاتا ۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندو مذہبی لیڈر سادھوی سرسوتی نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے آرڈیننس کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوؤں کے ساتھ خود ان کی ہی سرزمین پر اجنبیوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ سادھوی سرسوتی نے مغربی بنگال کی ترنمول کانگر یس حکومت پر مسلمانوں کی چاپلوسی و خوشنودی کرنے کا الزام عائد کیا ۔ تاہم ٹی ایم سی نے اس الزام کو مستر د کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاست میں مذہبی خطوط پر عوام کو تقسیم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی ۔ سرسوتی نے کہا کہ ’ ہندوؤں کے جذبات کو حکومت آخر کیوں نظر انداز کررہی ہے ۔ ہندوستان، ہندوؤں کا ہے لیکن ہم سے خود ہماری ہی سرزمین پر اجنبیوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے حکومت کو آرڈیننس کا راستہ اپنانا چاہئیے ۔ اس ضمن میں وشواہندو پریشد (وی ایچ پی) آر ایس ایس اور شیوسینا جیسی مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات کے پیش نظر آرڈیننس کی کوشش میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سادھوی سرسوتی نے کولکاتا میں ’ویراٹ ہندو سمیلن ‘ سے خطاب میں رام مندر کی تعمیر کا کام فی الفور شروع کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کسی کو بھی ہندوؤں کے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہئیے ۔ سادھوی نے ہندو نوجوانوں کو مشور ہ دیا کہ وہ قیمتی موبائیل فونس کی خریدی پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے تلواریں خریدیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ایم سی حکومت محض ووٹ بینک کی خاطر مسلم برادری کی خوشامد و چاپلوسی کررہی ہے ۔ اس پارٹی کی غلط حکمرانی کیخلاف ہندوؤں کو متحد ہوجانا چاہئیے ۔ سرسوتی نے زہرافشانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ٹی ایم سی حکومت ہندوؤں کی مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت کررہی ہے لیکن دراندازی اور جہادی سرگرمیوں کیخلاف کارروائی کی جرأت نہیں کرسکتی ‘ ۔ سادھوی کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے سکریٹری جنرل اور سینئر وزیر پارتھا چٹرجی نے کہا کہ عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش بنگال میں کامیاب نہیں ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT