Wednesday , December 19 2018

ہندوستان ‘ڈیجیٹل انقلاب کی سمت گامزن ۔ نریند رمودی

ملک ‘ ٹکنالوجی کی طاقت کی بہترین مثال ۔ ورلڈ کانگریس برائے انفارمیشن ٹکنالوجی کا وزیر اعظم نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ افتتاح کیا

حیدرآباد 19 فبروری ( سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ہندوستان ڈیجیٹل انقلاب کی سمت رواں دواں ہے اور اس سلسلہ میںصرف حکومت کی کاوشیں کافی نہیں ہونگی ۔ وزیر اعظم نے آج رسمی طور پر باوقار ورلڈ کانگریس برائے انفارمیشن ٹکنالوجی اور ناسکام انڈیا لیڈرشپ فورم 2018 کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ افتتاح انجام دیا ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ڈیجیٹل معاملتوں سے سرکاری خزانہ میں بچت ہو رہی ہے نریندر مودی نے کہا کہ جن دھن اسکیم کے ذریعہ 57,000 کروڑ روپئے کی بچت ممکن ہوسکی ہے ۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ملک کے ہنرمند نوجوان ملک کو مستقبل کیلے تیار کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹکنالوجیز کو کاروباری برادری کے مختلف عوامل کا حصہ بنایا جانا چاہئے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جو کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے وہ سرمایہ کاروں ‘ تخلیق کاروں ‘ تھنک ٹینکس اور تجارت و کاروبار سے تعلق رکھنے والے دوسرے شعبوں کیلئے معاون اور مددگار ثابت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان قدیم تہذیب کے مالامال ورثہ اور ہمہ جہتی کلچر کا مرکز ہے جس کے ذریعہ اتحاد کا پیام دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹکنالوجی کے ذریعہ ایک دوسرے سے مربوط دنیا کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ ایک ایسی دنیا کو جہاں جغرافیائی فاصلے ایک دوسرے سے اشتراک میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتیں۔ وزیر اعظم نے یہ ادعا کیا کہ ہندوستان ‘ در اصل تمام شعبہ جات میں ڈیجیٹل تخلیق کا ہاٹ اسپاٹ ہے ۔ اس سے نہ صرف کئی اختراعی تجارتوں کو فروغ مل رہا ہے بلکہ اس سے ٹکنالوجی کے شعبہ میں اختراعات کو بھی فروغ مل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریبا ایک لاکھ گاووں کو آپٹیکل فائبر سے مربوط کیا گیا ہے ۔ ملک میں 121 کروڑ موبائیل فونس اور 120 کروڑ آدھار کارڈز ہیں اور 50 کروڑ افراد انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان ٹکنالوجی کی طاقت کی مثال پیش کرنے کا بہترین مقام ہے اور وہ مستقبل میں ہر شہری کو با اختیار بنانے کی سمت تیزی سے پیشرفت کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹکنالوجی کا اس طرح سے بہترین اور زیادہ استعمال ناقابل قیاس تھا ۔ ہم نے گذشتہ ساڑھے تین سال میں کامیابی سے یہ کام مکمل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی طرز عمل اور طریقہ کار میں تبدیلی کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا ہے ۔ نریندر مودی نے یہ ادعا بھی کیا کہ ڈیجیٹل انڈیا صرف ایک سرکاری پہل نہیں رہ گئی ہے بلکہ یہ عوام کا طرز زندگی بن گیا ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ 320 ملین جن دھن بینک اکاؤنٹس کو آدھار اور موبائیل سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ فلاحی اسکیمات کے راست فوائد ممکن ہوسکیں۔ ایسا کرنیسے 57,000 کروڑ روپئے کی بچت ہوسکی ہے ۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ صرف تین ماہ قبل ایک موبائیل ایپ امنگ شروع کیا گیا تھا جس میں تقریبا 185 سرکاری خدمات کو ایک ساتھ پیش کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ میک ان انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعہ قوم نے ایک طویل سفر طئے کرلیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں 2014 میں موبائیل تیار کرنے والی صرف دو فیکٹریاں تھیں لیکن آج ملک میں 118 کمپنیاں ہیں جو موبائیل تیار کرتی ہیں۔ ان میں دنیا کے کچھ بہترین برانڈ والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہرگھر تک ڈیجیٹل خواندگی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کی اسکیم پردھان منتری رورل ڈیجیٹل لٹریسی مشن کے ذریعہ 60 ملین افراد کو ڈیجیٹل ٹکنالوجی سے واقف کروایا جائیگا ۔ اس کے تحت 10 ملین افراد کی پہلے ہی تربیت کی جاچکی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھیم ایپ کے ذریعہ ڈیجیٹل ادائیگیوں سے گذشتہ مہینے 15,000 کروڑ روپئے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں ۔ ہم اب چوتھے صنعتی انقلاب کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹکنالوجی کا عوام کی بہتری کیلئے اچھا استعمال کیا جائے تو انسانیت کیلئے دیرپا خوشحالی لائی جاسکتی ہے تاکہ ایک اچھا مستقبل یقینی بنایا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT