Thursday , November 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان کا آج جنوبی افریقہ کے خلاف عملاً کوارٹرفائنل

ہندوستان کا آج جنوبی افریقہ کے خلاف عملاً کوارٹرفائنل

مقابلہ کا آغاز سہ پہر 3 بجے ہوگا

لندن 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے لئے کل آئی سی سی چمپئنس ٹروفی میں کھیلا جانے والا مقابلہ عملاً کوارٹر فائنل مقابلہ بن چکا ہے جس میں خاص کر کپتان ویراٹ کوہلی کے لئے انتہائی سخت امتحان ہوگا۔ ہمالیائی اسکور بنانے کے باوجود کمزور سمجھی جانے والی سری لنکائی ٹیم کے خلاف ہونے والی حیران کن شکست سے دفاعی چمپئن ہندوستانی ٹیم کے حوصلے متزلزل ہوئے ہیں اور وہ اُمید کررہی ہے کہ حریف افریقی ٹیم اہم مقابلے میں شکست کے سلسلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اِسے زیادہ مسائل نہیں دے گی۔ کل کا مقابلہ دلچسپ ہے کیوں کہ ہندوستانی ٹیم کو اگر شکست ہوتی ہے تو دفاعی چمپئن ٹیم سیمی فائنل سے قبل ہی ٹورنمنٹ سے باہر ہوجائے گی اور اگر افریقی ٹیم کو ناکامی برداشت کرنی پڑتی ہے تو آئی سی سی کی ونڈے درجہ بندی کی نمبر ایک ٹیم گروپ مرحلہ سے ہی ٹورنمنٹ سے باہر ہوجائے گی۔ ہندوستانی ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی یقینا اِس مقابلے میں شدید دباؤ میں رہیں گے جیسا کہ سری لنکا کے خلاف وہ انفرادی طور پر ناقص مظاہرہ کے بعد ڈک آؤٹ ہوئے تھے اور ٹیم بھی 300 سے زائد رنز اسکور کرنے کے باوجود سری لنکا کے خلاف شرمناک شکست برداشت کی ہے۔ دوسری جانب افریقی کپتان اے بی ڈی ولیئرس کے لئے بھی یہ مقابلہ اہمیت کا حامل ہے اور حسن اتفاق سے وہ بھی پاکستان کے خلاف اپنے کیرئیر میں پہلی مرتبہ گولڈن ڈک ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقی ٹیم میں عالمی معیار کے 3 بائیں ہاتھ کے بیٹسمنوں کوئنٹن ڈی کاک، جے پی ڈومینی اور ڈیوڈ ملر کی موجودگی کے بعد کپتان ویراٹ کوہلی کے لئے کوئی بہانہ نہیں بنتا کہ وہ روی چندرن اشون کو قطعی 11 کھلاڑیوں سے باہر رکھیں کیوں کہ ان کی بولنگ سے مذکورہ کھلاڑیوں کے خلاف بہتر حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے۔

اِن حالات میں روی چندرن اشون کے لئے جڈیجہ کو ٹیم سے باہر کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ہاردک پانڈیا آل راؤنڈر کی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔ ٹیم کے علاوہ کپتان ویراٹ کوہلی کی قائدانہ صلاحیتوں کا بھی امتحان ہوگا کیوں کہ سری لنکا کے خلاف ہمالیائی اسکور بنائے جانے کے باوجود ہندوستانی ٹیم کو حریف ٹیم نے جامع شکست دی جس میں طاقتور تصور کیا جانے والا ہندوستانی بولنگ شعبہ ناکام ہوا تھا۔ پاکستان کے خلاف 319 اور سری لنکا کے خلاف 323 رنز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کا بیاٹنگ شعبہ بہتر مظاہرہ کررہا ہے جیسا کہ اوپنرس کی جوڑی روہت شرما اور شکھر دھون نے دونوں ہی مقابلوں میں ٹیم کو بہتر شروعات فراہم کی تاہم گزشتہ مقابلے میں کوہلی اور یوراج سنگھ کے ناکام ہونے کے بعد رنز کی رفتار پر روک لگی۔ پور پلے کے نئے قانون اور افریقی ٹیم میں موجود چند بڑے ہٹرس کی موجودگی سے 340 رنز کا نشانہ بھی قابل تعاقب معلوم ہوتا ہے اِس لئے ہندوستانی ٹیم کے لئے اِس مقابلے میں غلطی کا کوئی بھی موقع نہیں رہے گا۔ جیسا کہ اِس نے گزشتہ مقابلوں میں ناقص فیلڈنگ کی ہے۔ ہندوستانی بولروں کے لئے حریف اوپنرس کی جوڑی ڈی کاک اور ہاشم آملہ کے خلاف سخت چیلنج رہے گا کیوں کہ دونوں ہی کھلاڑیوں کا ہندوستانی ٹیم کے خلاف انتہائی شاندار ہونے کے علاوہ دونوں ہی کھلاڑی بہتر فام میں ہیں۔ بولنگ شعبہ میں عالمی نمبر ایک رباڈا کے علاوہ مرنی مرکل کی اُچھال لیتی گیندیں ہندوستانی بیٹسمنوں کے لئے جہاں حالات مشکل کرسکتی ہے وہیں عمران طاہر بھی درمیانی اوورس میں ہندوستانی بیٹسمنوں کے رنز بنانے کی رفتار پر روک لگانے کے علاوہ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ بھی دکھاسکتے ہیں۔ آل راؤنڈرس میں کرس مورس کسی بھی لمحہ ٹیم کے لئے مقابلے کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نیز کپتان ڈی ولیئرس کے ہمراہ ٹیم کے دیگر کھلاڑی بھی خود پر لگے ’’چوکرس‘‘کا لیبل تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT