Sunday , February 25 2018
Home / مضامین / ہندوستان کا بکھرتا ہوا سماج

ہندوستان کا بکھرتا ہوا سماج

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
ہندوستانی سماج اس وقت جس شکست و ریخت کے مرحلوں سے گزر رہا ہے اس سے ہر صاحب بصیرت بخوبی واقف ہے ۔ آزادی کے بعد ہمارے قومی رہنماؤں نے ملک کو انتشار اور افتراق سے نجات دلانے کیلئے ’’کثرت میں وحدت (Unity in Diversity) کے نظریے کو عام کیا تھا۔ یہ ایک ملک ہزاروں سال سے کئی تہذیبوں ، کئی مذاہب اور کئی زبانوں کا گہوارا رہا ہے ۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک تکثیری سماج (Pluralistic Society) کی داغ بیل ڈالی گئی تھی لیکن اب ملک کی اس نمایاں خصوصیت کو ختم کرنے کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ صدیوں قدیم گنگا جمنی تہذیب کو ختم کر کے ایک خاص تہذیب و تمدن کو ہزار طاقت سے ہی سہی ملک کے عوام پر مسلط کرنے کی ساری تیاریاں کرلی گئیں ہیں ۔ تکثیری معاشرے کے خواب کی تعبیر ہندوستانیوں کے نظروں سے دور ہی دور ہوتی جارہی ہے۔ 2014 ء کے انتخابی نتائج کے بعد جس پارٹی کو سنگھاسن پر قبضہ کرنے کا موقع ملا، اس کے سرپرست اور حواری سینہ ٹھونک کر یہ کہہ رہے ہیں کہ 800 سال بعد ملک میں ہندو راج قائم ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ 15 اگست 1947 ء کے بعد سے جو پارٹیاں برسر اقتدار آتی رہیں کیا ان کا تعلق کسی بیرونی ملک سے تھا اور آیا انہوں نے ملک کے دستور اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی مرضی کی حکومت چلائی ۔ بات دراصل یہ ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے ذات پات اور مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ آج ہندو توا نظریہ کی گونج پھر زور و شور کے ساتھ سنائی دے رہی ہے ۔ گجرات کا الیکشن سرپر آچکا ہے۔ اس لئے ترقی اور سب کا ساتھ اور سب کا وکاس یا سوچھ بھارت جیسے نعرے پھیکے پڑگئے ہیں۔ گجرات جو آر ایس ایس کی لیباریٹری کی حیثیت سے مشہور ہے اور ہمارے ملک کے وزیراعظم 2014 ء کے الیکشن کے دوران گجرات ماڈل کی بہت باتیں کرتے تھے اور یہ دعویٰ بھی کرتے تھے ، ملک میں بھی گجرات ماڈل پر عمل کیا جائے گا لیکن اب اس گجرات میں بی جے پی کو اندازہ ہوگیا کہ ان کے پیروں تلے زمین کھسکتی جارہی ہے۔ گجرات کا تاجر طبقہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ سے پہلے ہی برسر اقتدار پارٹی سے ناراض تھا ۔ اب پاٹیدار تحریک کے لیڈر ہاردک پٹیل نے گجرات اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی تائید کا اعلان کر کے بی جے پی کے لئے زمین کو مزید تنگ کردیا ہے ۔ اب گجرات ماڈل کی ترقی کی باتیں عوام کے لئے مضحکہ خیز بنتی جارہی ہیں۔ گجرات کے چیف منسٹر وجئے روپانی کوئی کرشماتی شخصیت نہیں ہیں لیکن وزیراعظم نریندر مودی بھی گجراتی عوام کیلئے کوئی پرکشش شخصیت باقی نہیں رہے ۔ ایک طویل عرصہ تک گجرات کے چیف منسٹر رہ کر بھی انہوں نے ریاست کی ترقی کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے بلکہ 2002 ء کی مسلم نسل کشی کے ذمہ دار کی حیثیت سے ان کا نام تاریخ میں درج ہوگیا ۔ آج عدالتیں چاہے انہیں کتنی ہی کلین چٹ دے دیں لیکن کل کا مورخ گجرات کے ہولناک فسادات کیلئے انہیں معاف نہیں کرے گا۔ بحیثیت سربراہ ریاست ان کا جو رول رہا ہے ، فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ گجرات کی ترقی کی با تیں عوام کے کارکنوں کو خوش کرنے کے بی جے پی کے ہر لیڈر نے کی لیکن حقائق کی بنیاد پر اعداد و شمار کی ر وشنی میں جب گجرات کی ترقی کے پیمانہ کو جانچا گیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ ترقی کے معاملہ میں گجرات ملک کی کئی ریاستوں سے پیچھے ہے۔ بی جے پی کی ایک دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ گجرات صحت کے معا ملے میں سب سے آگے ہے۔ یہاں سب سے زیادہ صحت مند بچے ہیں اور صرف جملہ آبادی کے 38.77 بچے تغذیہ کی کمی کا شکار ہیں لیکن جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہو ا کہ بہار ، دہلی ، آندھراپردیش ، راجستھان اور ہریانہ سے گجرات کی حالت بہتر ہے۔ پھر کس طرح یہ کہا جاسکتا کہ سارے ملک میں گجرات صحت کے معاملے میں سرفہرست ہے۔ عوام کا کوئی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ پاٹیدار طبقے کے علاوہ پسماندہ طبقات اور دلت بھی بی جے پی سے ناراض ہیں۔ مسلمانوں کے تعلق سے بی جے پی نے 2014 ء کے الیکشن کے موقع پر کہہ دیا تھا کہ انہیں مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یو پی اور بہار میں بھی بی جے پی لیڈر اپنے اس موقف پر قائم رہے ۔ انہوں نے کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ بھی نہیں دیا لیکن گجرات الیکشن سے پہلے مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چنانچہ ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو رائے دہی سے دور رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس کے لئے مبینہ طور پر گجرات کے مسلمانوں کو اجمیر کی مفت زیارت کی پیشکش کی جارہی ہے تاکہ عام مسلمان الیکشن کے ہنگاموں سے دور ہوکر اجمیر شریف کی زیارت کو نکل جائیں اور بی جے پی ان کے ووٹوں کو اپنے حق میں بھرپور استعمال کرسکے۔ بابری مسجد کے مسئلہ کو بھی اس لئے پھر سے تازہ کردیا گیا۔ آرٹ آف لیونگ کے سربراہ سری سری اور یو پی شیعہ وقف بورڈ کے صدرنشین وسیم رضوی کو شاید یہی ایک ذمہ داری دے دی گئی کہ وہ روزانہ اس معاملہ میں لب کشائی کرتے رہے ۔ سری سری کا دعویٰ ہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا اور مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہوجائیں ۔ رضوی صاحب اپنے خاندان کی جاگیر سمجھ کر بابری مسجد ، غیروں کو طشت میں رکھ کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ چند ٹکٹوں کیلئے بکنے والوںکی کمی نہ کل تھی اور نہ آج ہے۔ کاسہ گدائی ہاتھ میں لیکر اقتدار کی دہلیز پر پیشانی لگانے والے اللہ کے گھر کے ساتھ مکر و فریب کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو اللہ ایسے مکر کرنے والوں سے بخوبی واقف ہے اور ان کا جو انجام دنیا میں ہوتا ہے اسے بھی لوگ مسائل آنکھوں سے بہت جلد دیکھ لیتے ہیں۔ بہرحال ایسے بہت سارے سو گجرات سے پہلے اچھالے جائیں گے اور کوئی عجب نہیں کہ نام نہاد دانشور اور علمائے شیعہ بھی بی جے پی کی قصیدہ خوانی پر اُتر آئیں۔ ووٹوں کی سیاست ہوتی ہے ایسی کہ بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے جاتے ہیں۔ چوراہوں پر فسطائی طاقتوں کو چیلنج کرنے والے بھی اقتدار کی راہ داریوں میں اپنے معاملے طئے کرلیتے ہیں۔ بی جے پی اس فن کا کافی تجربہ رکھتی ہے۔ بی جے پی کے لئے گجرات کا الیکشن سیمی فائنل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر وہاں وہ پھر سے اقتدار پر واپس آتی ہے تو 2019 ء کے الیکشن میں اس کے لئے ماحول سازگار ہوسکتا ہے ۔ ملک کی دیگر پارٹیاں بھی گجرات الیکشن کو کافی قریب سے دیکھ رہی ہیں۔ اس وقت بی جے پی کی جو حلیف پارٹیاں ہیں ان کی تعداد گھٹ سکتی ہے ، اگر گجرات میں بی جے پی دو تہائی اکثریت سے کامیاب نہیں ہوتی ہے۔ عوام کے ذہن کو اپنی طرف موڑنے کیلئے بی جے پی نے اپنی تنظیموں سے سروے بھی کرالیا اور ان سرویز کے ذریعہ یہ باور کرایا گیا گجرات میں بی جے پی کے لئے میدان صاف ہے۔ کانگریس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود گجرات میں زمام اقتدار پر نہیں آسکتی جو کچھ انتخابی سروے آئے ہیں یہ سب بی جے پی کے ہم نواہیں اس لئے وزیراعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کو خوش کرنے کیلئے بی جے پی کی کامیابی کو بتایا جارہا ہے لیکن جمہوریت میں عوام کے مزاج کو سمجھنا مشکل ہے ۔ کب عوام اپنی رائے بدل دے یہ کہا نہیں جاسکتا۔ مسئلہ کسی ریاست میں کسی پارٹی کے برسر اقتدار آنے یا نہ آنے کا نہیں ہے ، بات یہ ہے کہ محض حصول اقتدار کیلئے ملک کو کتنا کھوکھلا کردیا جارہا ہے۔ یہ صورتحال یقیناً خطرناک بھی ہے اور پریشان کن بھی ۔ جب کوئی سیاسی پارٹی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کو مختلف عصبیتوں میں مبتلا کر کے اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کرنا چاہتی ہے تو یہ ملک کی ترقی کی علامت نہیں ہے ۔ پارٹی یا ذاتی مفادات کی خاطر ملک اور قوم کے عظیم تر مفادات کو داؤ پر لگادینا کوئی ملک کی خدمت نہیں ہے۔ ملک کی روایتی رواداری آج ختم ہوتی جارہی ہے ۔ تنقید کو برداشت نہیں کیا جارہا ہے ۔ صحافت کے اصول کیا ہوں اس کا درس حکومت کے ایوانوں سے دیا جارہا ہے ۔ ملک کی انتخابی سیاست کو اتنا آلودہ کردیا گیا کہ مسلمان ، مسلمان کے بارے میں اور ہندو، ہندو کو ووٹ دینا چاہتا ہے جبکہ دونوں طرف بھی خدمت کا جذبہ مفقود ہے۔ تاریخی مقامات کو بیرونی حملہ آوروں کی نشانیاں قرار دے کر اسے منہدم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا اب یہی مسائل رہ گئے ہیں جس پر عوام کی توجہ کو مرکوز کر کے انہیں حقیقی مسائل پر غور و فکر کرنے کا بھی موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ اس سے عوام کے درمیان بھی انتشار اور ایک دوسرے سے نفرت و عناد کے جذبات پیدا ہورہے ہیں۔ دور غلامی میں انگریزوں نے ہندوستانی سماج کی اس انداز میں تقسیم نہیں کی تھی جیسی بندر بانٹ ہندوتوا پارٹی آج کر رہی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سیکولر پا رٹیوں کے قائدین بھی ان کی حمایت پر اتر آتے ہیں۔ بہار اسمبلی کا الیکشن سیکولرازم اور ہندوتوا کے نعرے پر لڑا گیا ۔ بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار سیکولر پارٹیوں کی کمان تھامے ہوئے تھے لیکن چند ہی مہینوں بعد انہوں نے اپنا موقف بدل دیا اور آج وہ بی جے پی کے سب سے بڑے مداح بن کر سامنے آرہے ہیں۔ بہار کی عوام نے انتشاری قوتوں کو کچل دیا لیکن نتیش کمار نے عوام کے ووٹ لے کر عوام کو دھوکہ دیا ۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو ، ہندوستانی سیاست کے چمپین ہیں لیکن ان کی کیا مجبوری ہے کہ وہ مسلسل بی جے پی کے حلیف بنے آرہے ہیں، حالانکہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بی جے پی کا موقف اب بھی کمزور ہے۔ اس طرح اور کئی لیڈروں کے نام لئے جاسکتے ہیںجن کی پہچان سیکولر لیڈرس کی تھی لیکن آج وہ سیکولرازم کا راستہ چھوڑ چکے ہیں۔ اول بات یہ ہے کہ مفادات جب آڑے آجاتے ہیں تو اصول اور نظریات کی حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے ۔ اب ملکی سیاست میں یہ سب باتیں افسانوی لگتی ہیں لیکن افراط و تفریط کے اس ماحول میں حقیقتوں کا سامنا کرتے ہوئے ایک با معنی اور پائیدار تکثیری سماج کی تشکیل کے لئے منصوبہ بند ، مخلصانہ اور دیانتدارانہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ سیاستداں اس ملک کو کس طرف لے جارہے ہیں، یہ الگ موضوع ہے، ملک کے دانشوروں ، سماجی جہد کاروں اور باخبر شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ ہماری قومی زندگی میں تشدد ، فرقہ پرستی ، علاقہ واریت ، عدم برداشت اور تنگ نظری کا جو عنصر غالب آتا جارہا ہے اس کا قلع قمع کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ ملک کی ایک بڑی اقلیت کے حوصلوں کو پست کرنے اور اس کو حاشیہ پر لانے کی جو مذموم کوششیں جاری ہیں اس سے ملک کی سالمیت اور جمہوریت کو ہی نقصان ہوگا۔ ضرورت ہے کہ کھلے ذہن کے ساتھ ارباب اقتدار مسائل کا حل تلاش کریں۔ اس کے ذریعہ ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ہندوستان حقیقی گلدستہ اس وقت تک رہے گا جب تک عوام کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف اور مساوات ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT