Saturday , February 24 2018
Home / Top Stories / معاشی پالیسیوں میں تحفظاتی ذہنیت پر وزیراعظم مودی کی تنقید

معاشی پالیسیوں میں تحفظاتی ذہنیت پر وزیراعظم مودی کی تنقید

دہشت گردی اور تبدیلی ماحولیات سنگین خطرات۔ کینیڈا کے وزیراعظم ، نیدرلینڈس کی ملکہ سے ملاقات

ڈاؤس۔ 23 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) تحفظات کی ذہنیت اور معاشی پالیسیوں پر داخلی توجہ پر سخت پیغام دنیا بھر کو دیتے ہوئے وزیراعظم ہندوستان نریندر مودی نے آج کہا کہ اس قسم کے رجحانات خطرناک ہوسکتے ہیں کیونکہ دہشت گرشدی اور تبدیلی ماحولیات ’’آزادی کی جنت‘‘ تخلیق کررہے ہیں اور ان کا طریقہ انتشار پھیلانا ہے۔ مودی پہلے ہندوستانی وزیراعظم ہیں جو گذشتہ 20 سال میں دنیا کو درپیش سنگین خطروں بشمول دہشت گردی اور تبدیلی ماحولیات کے بارے میں بات کررہے تھے۔ ہندی میں ایک گھنٹہ طویل تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہندوستان کا نقطہ نظر کہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں اور یہ سرمایہ کاروں کی منزل ہے۔ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اچھی طرح دولت حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں ملک کی خوشحالی کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ انہوں نے واضح طور پر ان پالیسیوں کا حوالہ دیا جیسے امریکہ میں ’’امریکہ سب سے پہلے‘‘ کی پالیسی پر عمل آوری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر کیونکہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ ڈاؤس جاریہ ہفتہ کے اواخر میں آنے والے ہیں۔ مودی نے کہا کہ کئی ممالک کی توجہ دنیا کے سکڑجانے پر مرکوز ہے اور عالمیانے کا نعرہ اپنی کشش کھوتا جارہا ہے۔ اس قسم کے رجحانات دہشت گردی اور تبدیلی ماحولیات کی بنسبت کم خطرناک ہوسکتے ہیں۔ تاہم تحفظات کی ذہنیت اگر سر پر سوار رہے تو اس بات کا خطرہ ہیکہ نئی شرحیں اور بغیر شرحوں کے حدود کے ابھرآنے پر وزیراعظم نے کہا کہ انتشار مخالف عالمیانے کے مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ باہم مربوط دنیا میں عالمیانہ اپنی کشش کھو رہا ہے۔ وزیراعظم نے اظہارحیرت کیا کہ کیا عالمیانے کی تنظیم دوسری جنگ عظیم کے بعد درحقیقت آج کی عالم انسانیت کے خوابوں اور امنگوں کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان زبردست خلیج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی جمہوریت اور تنوع پر فخر ہے۔ مودی نے کہا کہ ملک نے ہمیشہ عالمی امن میں اپنا حصہ ادا کیا ہے اور وہ اتحاد و یکجہتی کی اقدار پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی خطرناک ہے۔ وزیراعظم نے تبصرہ کیا کہ لیکن یہ حالت بدتر ہوسکتی ہے جب عوام یہ کہیں کہ ایک مختلف قسم کا تبصرہ ’’اچھے اور برے‘‘ دہشت گردی میں ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ انتہائی دردناک ہے کہ بعض نوجوان بنیاد پرست ہورہے ہیں۔ وزیراعظم نے پرزور انداز میں کہاکہ اس بات کی پیش قیاسی کی جاسکتی ہے کہ استحکام ہندوستان کو شفاف اور جارحانہ تیور عطا کرے گا۔ ہندوستان کیلئے یہ ایک اعتبار سے خوشخبری ہے کہ عالمی ماحولیات غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ہمیں ’’آزادی کی جنت‘‘ تخلیق کرنی چاہئے انتشار کے ذریعہ نہیں اور نہ توڑپھوڑ کے ذریعہ۔ وہ حاضرین سے یہ کہتے ہوئے خطاب کررہے تھے کہ امن، سلامتی اور استحکام سنگین عالمی چیلنجوں کی شکل میں ابھر رہے ہیں۔ جاریہ سال کی چوٹی کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’ایک مشترکہ مستقبل‘‘ تعمیر کرنا ہے جو توڑپھوڑ کی دنیا سے مختلف ہو اور اس کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ یہ ان کیلئے کارآمد ہوگا کیونکہ ہندوستانی ہمیشہ اتحاد میں یقین رکھتے ہیں، عوام میں انتشار پھیلانے میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی سوالات ہیں جن کے جوابات دیئے جانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی نظام توڑپھوڑ کو اور دنیا بھر میں خلیج پیدا کرنے کو فروغ دے رہا ہے۔ کیا ہم ان خلیجوں اور فاصلوں کو کم کرسکتے ہیں تاکہ ایک مشترکہ مستقبل تعمیر کرسکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ہمیشہ ’’واسودیو کٹمبکم‘‘ کی بات کرتے ہیں لیکن وزیراعظم نے کہا کہ آج کا مسئلہ یہ ہیکہ مسائل سے اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود نمٹنا ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی نے کہا تھا میں میرے گھر میں کھڑکیاں بند رکھنا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ تمام ممالک کے تہذیب و تمدن کی ہوائیں اندر آئیں۔ میں چاہے انہیں قبول نہ کروں لیکن انہیں جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھیکونگا کیونکہ میرا اپنا ایک تمدن ہے‘‘۔ وزیراعظم نے سنسکرت اشلوکوں کا حوالہ دیا کہ ’’ہم سب دھرتی ماتا کے بچے ہیں‘‘۔ انہوں نے ہندوستان میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اصلاحات کے اصولوں پر عمل کررہی ہے۔ اس کی کارکردگی شفاف اور انقلابی تبدیلی پیدا کرنے والی ہے یعنی ملک پانچ ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت 2025ء میں بننے کی سمت پیشرفت کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں سرمایہ کاری انتہائی آسان بنادی ہے۔ ہندوستان میں پیداوار اور ہندوستان میں کام بھی آسان ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہیکہ ہندوستان میں لائسنس اور پرمٹ راج کی بیخ کنی کریں گے۔ ہم لال فیتہ اور سرخ قالین کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ مودی نے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو، ملکہ میگزیما (نیدرلینڈس) اور مختلف سی ای اوز سے ان طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جن سے باہمی تعلقات کو مزید گہرا بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل جل کر ہاتھ سے ہاتھ ملا کر پیشرفت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ تمام ہندوستانی تاجر طبقہ کے افراد ہمارے ساتھ متحد ہوکر جاریہ سال مہم چلاسکتے ہیں۔

 

ہندوستان کا مطلب بزنس، بہترین موقعوں کی پیشکش

وزیراعظم مودی کی ڈاؤس میں 40 عالمی کمپنیوں کے سی ای اوز کیساتھ بات چیت

ڈاؤس ۔ 23 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا بھر کے سرکردہ کارپوریٹ اداروں کے سی ای اوز سے کہا ہیکہ ہندوستان کا معنی و مطلب بزنس ہے اور انہوں نے عالمی تجارتی و صنعتی برادری کو پرکشش موقعوں کی پیشکش کی۔ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر سی ای اوز کے ساتھ ڈنر پر بات چیت سے قبل مودی نے ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کیا اور ہندوستان کی ترقی کی داستان بیان کی۔ ان کے ساتھ وزارت امورخارجہ میں سکریٹری (اقتصادی تعلقات) وجئے گوکھلے، معتمدخارجہ جئے شنکر اور محکمہ صنعتی پالیسی و فروغ میں سکریٹری رمیش ابھیشیک کے بشمول دیگر کئی سرکاری عہدیدار بھی اس دورہ میں شامل ہیں۔ ’’ہندوستان کا مطلب بزنس‘‘ کے زیرعنوان راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں 40 عالمی کمپنیوں اور 20 ہندوستانی کمپنیوں کے سی ای اوز شرکت کررہے ہیں۔ سی ای اوز کے ساتھ مودی کی ملاقات کے بعد رویش کمار نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ مودی نے ہندوستان کی ترقی کی داستان بیان کی اور ہندوستان میں عالمی بزنس کیلئے پرکشش مواقع کی پیشکش کی۔ وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) نے ٹوئیٹ کیاکہ وزیراعظم نے دنیا کی سرکردہ کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی میزبانی کی۔

TOPPOPULARRECENT