Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان کسی مذہب یا ذات کا نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں کا ملک

ہندوستان کسی مذہب یا ذات کا نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں کا ملک

شرپسند عناصر کی سرگرمیاں روکنا ضروری ۔ زکوۃ کا نظام قابل تقلید ۔ پروفیسر ارون کمار کا تاثر
نئی دہلی، 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیتے ہوئے بہار کے جہاں آباد سے رکن پارلیمنٹ اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے صدر پروفیسر ارون کمار نے کہاکہ یہ ایک مذہب یا ایک ذات نہیں بلکہ مختلف مذاہب،ذاتوں اور مختلف ثقافتوں کا ملک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ شرپسند عناصر ملک کے لئے ایک چیلنج ہیں اور ملک کی ترقی کا پہلا ستون امن ہے اور ایسے شر پسند عناصر کو قابو میں کئے بغیر ملک ترقی کی راہ نہیں چل سکتا ہے ۔ یو این آئی اردو سروس سے خصوصی بات چیت میں انہوں نے کہاکہ کچھ دنوں سے مذہب کی اور دوسری چیزوں کی آڑ میں ملک کے کئی حصوں میں اس طرح کے شرپسند عناصر سرگرم ہیں اور حکومت کو چاہئے کہ فوراً یسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت آئین کے چلتی ہے اور آئین کا پابندی ہوتی ہے نا کہ کوئی ذات، مذہب، طبقہ، علاقہ اور ثقافت کا۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ سیاسی مفاد کی خاطر اس طرح کی چیزوں کو بڑھاوا دیتے ہیں ملک کے سنجیدہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان موضوعات پر حساس رہیں اور ایسے لوگوں کی کوششوں کو ناکام بنادیں۔ڈاکٹر ارون کمار نے کہاکہ اس ملک کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں مختلف مذاہب، مختلف ثقافت،الگ الگ ذات اور زبان کے جاننے والے لوگ رہے ہیں اور اسی سے ہندوستان کی بیرون ممالک میں شاخت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسی کا خواب ملک کے مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا اور ہمیں اس کو برقرار رکھنے کے لئے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔بہار کے کچھ علاقوں میں حالیہ دنوں میں ہونے والے کچھ ناپسندیدہ واقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر پروفیسر کمار نے کہاکہ دونوں فرقوں میں اچھے لوگوں کی کمی ہے اور کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جس کی پکڑ ہو اور ان کی بات سب لوگ مانتے ہوں جس کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی باتیں تنازعہ کی شکل لے لیتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا جب بڑے بوڑھے اس طرح کے تنازعہ کو فوراً سلجھا لیا کرتے تھے۔ انہوں نے تین طلاق کے حوالے سے کہا کہ جو چیز غلط ہے اسے ختم کیا جانا چاہئے اور اس کا بے جا استعمال بند کیا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ مسلم خواتین کو طلاق طلاق طلاق کہہ کر سڑکوں پر لا دیتے ہیں اور یہ کسی بھی طرح سے مناسب طریقہ نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے پاس زکوۃ کا ایسا نظام ہے جس کے سہارے وہ اپنی غریبی اور مفلسی کو دور کرسکتے ہیں اور بے سہارا خواتین کے لئے ایسا نظام بناسکتے ہیں جس سے ان کی روزی روٹی کا بند ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن جو آج کشمیر میں ہورہا ہے وہ پندرہ برس پہلے بھی ہوا ہے ۔ درمیان میں ایک دور امن کا ضرور رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان مخالف طاقتیں کشمیر میں امن کو دیکھنا نہیں چاہتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT