Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / ہندوستان کسی کے علاقہ یا وسائل پر نظر نہیں رکھتا ، مودی کا دعویٰ

ہندوستان کسی کے علاقہ یا وسائل پر نظر نہیں رکھتا ، مودی کا دعویٰ

NEW DELHI, JAN 9 (UNI):- Prime Minister Narendra Modi addressing the First PIO Parliamentarian Conference, in New Delhi on Tuesday. UNI PHOTO-23U

چین کے توسیع پسندانہ عـزائم کے پس منظر میں وزیراعظم ہند کا تبصرہ، ہندوستانی نژاد پارلیمنٹرینس کی پہلی کانفرنس سے خطاب

نئی دہلی۔ 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ہندوستان کسی کے علاقے اور وسائل پر نظر نہیں رکھتا ہے اور ادعا کیا کہ اس کا ترقیاتی امداد کا ماڈل ’’دو اور لو‘‘ کی اساس پر نہیں ہے، جو ایسے ریمارکس ہے جن کو برصغیر میں چین کی اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی بڑھتی کوشش کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر کے ہندوستانی نژاد اشخاص (پی آئی او) اور ہندوستانی نژاد پارلیمنٹرینس کی پہلی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے ان اشخاص سے یہ اپیل بھی کی کہ ہندوستان میں سرمایہ مشغول کرے اور اس ملک کی ترقی میں ایک عامل کے طور پر اپنا رول ادا کرے۔ یہ ایونٹ گاندھی جی کی جنوبی افریقہ سے واپسی کے 102 ویں سال کی تکمیل کے موقع پر منعقد کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ دنیا میں تعمیری رول ادا کیا اور یہ کہ گاندھی جی کا عدم تشدد کا فلسفہ انتہاء پسندی اور کٹر پسندی کا سدباب کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کسی قوم کی تئیں اپنی پالیسی نفع یا نقصان کی بنیاد پر وضع نہیں کرتا ہے بلکہ اسے انسانی اقدار کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کا ترقیاتی امداد کا ماڈل بھی دو اور لو کی اساس پر نہیں اور یہ متعلقہ ملکوں کی ضرورت اور ترجیح پر منحصر ہوتا ہے۔ ’’ہم نہ تو کسی کے وسائل کا استحصال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی کے علاقہ پر ہماری نظر ہے۔ ہماری توجہ ہمیشہ صلاحیتوں کو فروغ دینے اور وسائل میں ترقی لانے پر مرکوز رہی ہے‘‘۔ چین بعض جنوبی ایشیائی اقوام کے ساتھ روابط میں گیرائی لا رہا ہے اور انہیں زبردست مالی امداد فراہم کررہا ہے۔ بعض ماہرین کا احساس ہیکہ مودی کے ریمارکس اسی پس منظر میں ہیں اور اس سے ہندوستان کے پڑوسی بشمول مالدیپ، سری لنکا اور نیپال کا بیجنگ کی طرف جھکاؤ ہوسکتا ہے۔ ہندوستان روایتی طور پر ان ملکوں کو ترقیاتی امداد فراہم کرتا آیا ہے۔ دن بھر طویل کانفرنس میں 24 ممالک بشمول فرانس، فیجی، سوئٹزرلینڈ اور ماریشس سے 134 منتخب نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ مودی نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ دنیا نظریات سے منقسم ہیں، ہندوستان ’سب کا ساتھ سب کا وکاس، پر یقین رکھتا ہے اور تمام ممالک سے اپیل کی کہ ہندوستان کے تمام طبقات کو ساتھ لیکر آگے بڑھنے کے پیام کو پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کٹر پسندی اور انتہاء پسندی کے سدباب کیلئے کوئی فلسفہ ہے تو وہ گاندھی جی کا فلسفہ اور ہندوستانی اقدار کا فلسفہ ہے۔ وزیرامور خارجہ سشماسوراج نے بھی اجتماع کو مخاطب کیا اور عالمی سطح پر ہندوستان کی بڑھتی قدر و منزلت کیلئے مودی کی قیادت کو سراہا ۔

TOPPOPULARRECENT