Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی سمت پیشرفت

ہندوستان کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی سمت پیشرفت

کونسل میں اصلاحات سے متعلق مسودہ پر مبنی مذاکرات سے اتفاق ‘ آج جنرل اسمبلی کے 70 ویں سشن کا آغاز
نئی دہلی 14 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے ہندوستان کی کوششوں کو آج اس وقت زبردست تقویت حاصل ہوئی جب چین ‘ روس اور پاکستان کے احتجاج کے باوجود اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل اصلاحات کیلئے مصالحت کا مسودہ منظور کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ اس مسودہ کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 70 ویں سشن میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے جس کا کل سے آغاز ہونے والا ہے ۔ ہندوستان نے اس دستاویز کی منظوری کو تاریخی اور غیر معمولی قرار دیا ہے اور کہا کہ اس فیصلے کے نتیجہ میں بات چیت کے مسودہ پر بین حکومتی تبادلہ خیال کا آغاز ہوگا اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے مقصد کو حاصل کرنے کی کوششیں ہوسکتی ہیں۔ ہندوستان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے اور اسے امید ہے کہ مسودہ پر مبنی بات چیت کا جلد آغاز ہوگا تاکہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوسکے ۔ ہندوستان نے کہا کہ وہ تمام رکن ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے دیرینہ حل طلب مسئلہ پر مثبت و تعمیری بات چیت میں شامل ہوجائیں۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر اشوک مکرجی نے جنرل اسمبلی سے کہا کہ آج کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بالکل پہلی مرتبہ بین حکومتی بات چیت کا احیاء عمل میں آیا ہے ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات کا فیصلہ پر پیشرفت ہوسکتی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جس مسودہ کو جنرل اسمبلی نے منظور کرلیا ہے اب اس تعلق سے کوئی الجھن نہیں ہے اور 69 ویں سشن میں جو کام ہوا تھا اسے اب 70 ویں سشن کو منتقل کردیا جائیگا ۔ چین نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر جانبدار نہیں ہے اور نہ ہی شفاف ہے ۔ روس اور چین نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے تاہم ان میںسے کسی کو اس مسودہ کی منظوری کی مخالفت کرنے دوسرے ممالک کی تائید حاصل نہیں ہوئی ۔ آج جو مسودہ منظور کیا گیا ہے اس پر جنرل اسمبلی میں کوئی رائے دہی نہیں ہوئی اور اسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ مسٹر اشوک مکرجی نے کہا کہ آج جنرل اسمبلی میں جو کچھ ہوا تھا اسے اقوام متحدہ کے تمام 193 ارکان کی تائید حاصل ہوئی تھی اور یہ حقیقت میں تاریخی اور غیر معمولی اقدام ہے ۔

TOPPOPULARRECENT