Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کو ایک آزاد، خود مختار اور متحد فلسطین دیکھنے کی اُمید

ہندوستان کو ایک آزاد، خود مختار اور متحد فلسطین دیکھنے کی اُمید

اسرائیل کے ساتھ پرامن بقائے باہم پر زور، فلسطین کی مدد میں ہند سب سے آگے، نریندر مودی اور محمود عباس کی مشترکہ پریس کانفرنس

نئی دہلی 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے فلسطین کے صدر محمود عباس کو فلسطینی کاز کے لئے ہندوستان کی غیر متزلزل تائید کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ ہندوستان، اسرائیل کے ساتھ پرامن بقائے باہم کے اُصول پر ایک آزاد، خود مختار اور متحد فلسطین دیکھنے کی اُمید کرتا ہے۔ مودی نے جو جولائی میں اسرائیل کا دورہ کریں گے، مسئلہ فلسطین کے ایک جامع حل کی تلاشی کی سمت پیشرفت کے لئے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی عاجلانہ بحالی کی اُمید ظاہر کی۔ وزیراعظم مودی نے فلسطینی صدر عباس کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم ایک ایسے آزاد خود مختار متحد اور کارگر فلسطینی مملکت کا قیام دیکھنے کی اُمید کرتے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ پرامن بقائے باہم کے ساتھ ترقی و خوشحالی کے منازل طے کرے گی۔ اس مسئلہ پر میں صدر عباس سے آج مذاکرات کے دوران ہمارے (ملک کے) موقف کا اعادہ کرچکا ہوں‘‘۔ مودی نے یہودی مملکت کے مجوزہ دورہ سے قبل یہ ریمارک کئے ہیں جنھیں ہند اور اسرائیل کے مابین بڑھتی ہوئی قربت اور دوستی کے پس منظر میں نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ مودی، اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیراعظم ہوں گے۔ صدر محمود عباس نے فلسطینی کاز کے لئے ہندوستان کی یگانگت پر فلسطین کی طرف سے ستائش و تشکر کا اظہار کیا۔ عباس نے کہاکہ ’’ہندوستان (ہمارا) ایک دوست ہے۔ اس نے بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ کا استعمال کیا ہے۔ فلسطینی بحران کی یکسوئی میں ہندوستان اہم رول ادا کرسکتا ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ حال ہی میں وہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقاتوں کے دوران دو مملکتی حل پر دیرینہ تنازعات کی عاجلانہ یکسوئی کے امکانات پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ مودی نے کہاکہ معزز مہمان کے ساتھ اُنھوں نے مغربی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ امن مساعی پر تفصیلی تبادلہ خیال کئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پائیدار سیاسی مذاکرات اور پرامن طریقوں سے مغربی ایشیاء کے مسائل حل کئے جائیں گے۔ فلسطینی صدر نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی۔ جانبین نے پانچ سمجھوتوں پر دستخط کئے جن میں سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا سے استثنیٰ کے علاوہ زرعی تعاون، آئی، الیکٹرانکس، صحت و طبابت کے علاوہ اسپورٹس اور نوجوانوں کے اُمور سے متعلق شعبوں میں تعاون کے سمجھوتے بھی شامل ہیں۔ مودی نے کہاکہ ’’باہمی سطح پر فلسطین کی ترقی میں ہندوستان ایک فائدہ مند ساجھیدار کا رول ادا کرنے کے عہد کا پابند ہے۔ ہم فلسطین کی ترقی اور صلاحیتوں کی بدستور تائید کرتے رہیں گے۔ آج طے شدہ باہمی سمجھوتے دراصل اس جیت میں تعاون کو مستحکم بنانے کے عہد کی تجدید و اعادہ ہیں‘‘۔ ہندوستان اور فلسطین کی طرف سے مغربی کنارہ کے شہر رام اللہ میں باہمی اشتراک و تعاون سے تعمیر شدہ ٹیکنو پارک کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہاکہ یہ فلسطین میں واحد مرکز پر تمام آئی ٹی خدمات کا بہترین مرکز ہے۔ ہندوستان نے اکٹوبر 2015 ء کے دوران فلسطین میں ٹیکنو پارک کے قیام کے لئے 12 ملین امریکی ڈالر کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ششماہی بنیاد پر 3 ملین ڈالر کی ادائیگی کے ساتھ دو سال میں 12 ملین ڈالر کی ادائیگی مکمل کی جائے گی۔ فلسطینی اتھاریٹی نے ہندوستان کے اشتراک سے شروع کئے جانے والے اس پراجکٹ کی تعمیر کے لئے اراضی فراہم کی تھی۔ عباس نے کہاکہ فلسطین کی مدد کے معاملہ میں اس کے تمام دوست ملکوں میں ہندوستان سب سے آگے ہے۔ مودی نے کہاکہ بشمول یوگا چند نئے عناصر کے اضافہ کے ساتھ ہندوستان باہمی تہذیبی تبادلوں کے مزید فروغ کا متمنی ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ’’صدر عباس کے ساتھ آج مذاکرات کے دوران اس مسئلہ پر میں اپنے اتحاد و اشتراک کا اعادہ کرچکا ہوں۔ صدر عباس اور میں نے ایک فائدہ بخش اور تفصیلی بات چیت مکمل کئے ہیں جس سے ہماری ساجھیداری مزید مستحکم ہوگی‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT