Tuesday , December 11 2018

ہندوستان کو تن آسانی کی وجہ سے شدید نقصان ہوا

نئی دہلی۔ یکم ؍ اگست (سیاست ڈاٹ کام) انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹسٹ میں شکست کے بعد ہندوستانی ٹیم پر شدید تنقید کی جارہی ہے اسی دوران ٹیم کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے کہا کہ ٹیم کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ تن آسانی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے لارڈس کی تاریخ ساز کامیابی کے فوراً بعد تیسرے ٹسٹ میں شرمناک شکست برداشت کرنی پڑی۔ لارڈس میں من

نئی دہلی۔ یکم ؍ اگست (سیاست ڈاٹ کام) انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹسٹ میں شکست کے بعد ہندوستانی ٹیم پر شدید تنقید کی جارہی ہے اسی دوران ٹیم کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے کہا کہ ٹیم کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ تن آسانی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے لارڈس کی تاریخ ساز کامیابی کے فوراً بعد تیسرے ٹسٹ میں شرمناک شکست برداشت کرنی پڑی۔ لارڈس میں منعقدہ سیریز کے دوسرے ٹسٹ میں ہندوستانی ٹیم نے ایک تاریخ ساز کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس کے فوری بعد تیسرے ٹسٹ میں اسے 266 رنز کی شرمناک شکست برداشت کرنی پڑی ہے۔ ٹیم کے سابق اوپنر گواسکر نے این ڈی ٹی وی سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ نے تیسرے ٹسٹ میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس کی بدولت وہ سیریز میں حاوی ہوجائے گی۔ گواسکر کے بموجب کرکٹ کے مرکز لارڈس میں ہندوستانی ٹیم نے جو کامیابی حاصل کی تھی اس کی وجہ سے انگلش کھلاڑیوں کے حوصلے انتہائی پست ہوچکے تھے لیکن کسی کو خبر نہیں کہ دونوں ٹسٹوں کے درمیان 5 دن کے وقفہ میں ہندوستانی ٹیم نے کیا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلپ میں کک کا کیچ چھوڑا گیا ہے اور انہوں نے فام میں واپسی کرلی۔ لہٰذا ضروری ہیکہ سلپ کی فیلڈنگ کو بہتر بنایا جائے۔ گواسکر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1930ء سے ہندوستانی ٹیم کی یہ عادت ہے کہ وہ کامیابی کے بعد تن آسانی کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن موجودہ ٹیم کے کھلاڑی زیادہ پیشہ ور ہے اور انہیں تن آسانی کی وجہ سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔

گواسکر نے تیسرے ٹسٹ کے پانچویں دن ہندوستانی بیٹسمینوں کے مظاہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جیمس اینڈرسن نے جو گیندیں ڈالی اس پر دنیا کا بہترین اور نمبر ایک بیٹسمین بھی باآسانی آوٹ ہوجاتا لیکن اس کے بعد مہمان بیٹسمینوں نے جو مظاہرہ کیا وہ انتہائی غیرمعیاری ہے کیونکہ بیٹسمینوں نے ایک فیصد بھی مزاحمتی کھیل نہیں کھیلا۔ گواسکر کے بموجب اجنکیا راہنے جنہوں نے اس مقابلہ میں بہتر مظاہرہ کرنے کے علاوہ آخری اننگز میں بھی مزاحمتی کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن اس کے علاوہ کوئی دوسرا ہندوستانی بیٹسمین وکٹ پر حریف بولروں کے خلاف مزاحمت کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو پایا ہے۔ گواسکر نے کہا کہ اس ٹسٹ میں ہندوستانی ٹیم کوشکست سے صرف دو کھلاڑی محفوظ رکھ سکتے تھے وہ سیریز میں بہتر مظاہرہ کرنے والے مرلی وجئے اور چیٹیشور پجارا تھے لیکن جس طرح وجئے نے اپنی وکٹ گنوائی وہ بچکانا حرکت رہی۔ گواسکر نے اپنے خیالات کے دوران انگلش ٹیم کے اسپنر معین علی کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس بولر نے توقعات سے کہیں زیادہ بہترین مظاہرہ کیا۔ گواسکر کے بموجب معین علی ایک اچھے بولر ضرور ہیں لیکن ان سے کسی نے بھی گرائم سوان جیسے مظاہرہ کی امید نہیں کی تھی لیکن معین علی نے سوان جیسے انتہائی غیرمعمولی بولر جیسا مظاہرہ کیا۔ گواسکر کے بموجب معین علی کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے اور وہ بیٹسمین کو رنز اسکور کرنے کیلئے آسان گیندیں نہیں دیتے۔

TOPPOPULARRECENT