Monday , May 21 2018
Home / Top Stories / ہندوستان کو خام تیل سربراہ کرنے میں عراق کی سعودی پر سبقت

ہندوستان کو خام تیل سربراہ کرنے میں عراق کی سعودی پر سبقت

جنگ زدہ ہونے کے باوجود تیل کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں – ہندوستان کو ہمیشہ رعایتی قیمتوں پر سربراہی
اپریل تا اکٹوبر سعودی عرب کے 21.9 ملین ٹن کے مقابلے 25.8 ملین ٹن خام تیل کی سربراہی

ریاض ؍ بغداد ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) عراق سے آج کل ہندوستان کو خام تیل کی برآمد میں کافی اضافہ دیکھا جارہا ہے اور اب وہ سعودی عرب سے بھی یہ اعزاز چھین سکتا ہے کیونکہ قبل ازیں سعودی عرب ہی وہ واحد ملک تھا جو ہندوستان کو سب سے زیادہ خام تیل برآمد کیا کرتا تھا۔ ہندوستان کے وزیر تیل دھرمیندر پردھان نے لوک سبھا میں پیر کے روز ایک جواب داخل کرتے ہوئے بتایا کہ عراق نے 2017ء میں ماہ اپریل تا اکٹوبر 25.8 ملین ٹن تیل ہندوستان کو سربراہ کیا گیا جبکہ اس کے برعکس سعودی عرب نے 21.9 ملین ٹن تیل سربراہ کیا جبکہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ ہندوستان کو سعودی عرب ہی سب سے زیادہ تیل سربراہ کیا کرتا تھا۔ تیسرے نمبر پر ایران ہے، جس نے لگاتار دوسرے سال بھی تیل کی سربراہی کا سلسلہ جاری رکھا اور مندرجہ بالا مدت کے دوران ایران نے 12.5 ملین ٹن تیل سربراہ کیا۔ صنعتی تجزیہ نگاوں کے اور دیگر عہدیداروں نے بتایا کہ ہندوستان کے لئے عراق کا سب سے زیادہ مقدار میں تیل سربراہ کرنے کے کئی اہم پہلو ہیں، ان میں سب سے زیادہ اہمیت قیمت کی ہے کیونکہ عراق ہندوستان کو جو تیل سربراہ کرتا ہے اس میں قابل لحاظ رعایت بھی دیتا ہے جسے عام زبان میں ڈسکاؤنٹ کہا جاتا ہے۔ ایک صنعتی ذریعہ نے بتایا کہ 2016ء میں بھی عراق نے سعودی عرب کو تیل کی سربراہی میں کافی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ 2016ء کے نصف عرصہ تک اس نے خام تیل کی ہندوستان کو سربراہی میں سعودی عرب پر سبقت حاصل کرلی تھی اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین سالوں سے عراق نے ہندوستان کو خام تیل کی سربراہی کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014-15ء میں 24.5 ملین ٹن سربراہ کیا گیا جو 2015-16ء میں 36.8 ملین ٹن اور 2016-17ء میں 57.5 ملین ٹن ہوگیا جبکہ سعودی عرب نے ہندوستان کو جو خام تیل سربراہ کیا اس میں قابل لحاظ حد تک گراوٹ نوٹ کی گئی۔ 2015-16ء میں 40.4 ملین ٹن خام تیل سربراہ کیا گیا۔ تاہم یہی مقدار 2016-17ء میںگھٹ کر 39.5 ملین ٹن ہوگئی۔ اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو عراق اس مالیاتی سال میں بھی ہندوستان کو خام تیل سربراہ کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ دوسری طرف مزید ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان میں ریفائنریز کو جس طرح عصری طور پر تیار کیا گیا ہے اس نے بھی ہندوستان کے لئے عراقی خام تیل کی سربراہی میں اضافہ میں اہم رول ادا کیا ہے۔ آج ہندوستان کی ریفائنریز میں بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت موجود ہے لہٰذا تیل کی زیادہ سے زیادہ خریداری بہ آسانی کی جاسکتی ہے جبکہ جس طرح پرانی ریفائنریز ہوا کرتی تھیں اس زمانے میں وہ زیادہ منفعت بخش نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ریفائنریز بصرہ خام تیل کی خریداری کو ترجیح دیتی ہیں جس سے بٹومین کی پیداوار کی جاسکے جو ہندوستان میں بڑی بڑی سڑکیں تعمیر کرنے کی مقصد براری میں اہم رول ادا کرے گا اور اس لئے بٹومین کی ہندوستان میں بہت زیادہ طلب ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عراقی خام تیل ہندوستان کو رعایتی قیمتوں پر سربراہ کیا جاتا ہے جس سے ہندوستان کو دو فائدے ہیں۔ ایک تو معیاری تیل مل جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ قیمت بھی کم ہوتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ عراق کے علاوہ سعودی عرب، ایران، ونیزویلا (11.5 ملین ٹن)، نائجیریا (10.6 ملین ٹن) اور یو اے ای (8.5 ملین ٹن) بھی ہندوستان کو اپریل تا اکٹوبر 2017ء کے درمیان سب سے زیادہ حام تیل سربراہ کرنے والے ممالک میں شامل رہے۔ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ جنگ زدہ عراق نے اپنی صنعتوں کے معیار کے ساتھ کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
عراق کے سابق حکمراں صدام حسین جنہیں پھانسی کی سزاء دی گئی تھی، حالات کچھ اس طرح بگڑے کہ اس ملک نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران اتنے زیادہ سیاسی نشیب و فراز دیکھے جو شاید ہی کسی اور ملک نے دیکھے ہوں گے لیکن اس کے باوجود اس نے خام تیل کی سربراہی کا اپنا معیار بدستور برقرار رکھا۔

TOPPOPULARRECENT