Thursday , July 19 2018
Home / ہندوستان / ہندوستان کو دریائے برہما پترا تنازعہ پر فکرمندی ضروری نہیں

ہندوستان کو دریائے برہما پترا تنازعہ پر فکرمندی ضروری نہیں

سابق سربراہ فوج اور مشیر قومی سلامتی کا مغربی بنگال میں سمینار سے خطاب
کولکتہ ۔ 4فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) دریائے برہما پترا کا چین کی جانب سے رُخ موڑنے سے ہندوستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ سابق سربراہ فوج جنرل ( سبکدوش) شنکر رائے چودھری نے کہا کہ اگر یہ الزام درست بھی ہو تو دریا جو ہندوستان میں برہما پترا کہلاتا ہے اور اس کی کافی تعداد میں معاون ندیاں ہیں ‘ بارش کے زمانے میں ان کے آبگیر علاقوں میں کافی پانی ہوتا ہے جو معاون ندیوں میں نالیوں کے ذریعہ آکر شامل ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چین دریا کے پانی کا رُخ موڑ بھی دے تو ہندوستان کو فکرکرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ ایک سمپوزیم سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہند ۔ چین تعلقات کشیدہ ہیں جن کوحساس مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی دور ہوسکے ۔ چین نے سرکاری خبررساں ادارہ سے بات چیت کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ دریا کے پانی کا رُخ موڑ رہا ہے ۔ سابق مشیر قومی سلامتی ایم کے نارائنن نے تاہم مسئلہ کا سخت نقطع نظر سے جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ چینآبی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے اور دریا برہما پترا کے بہانے وہ آبی جنگ چھیڑنے کیلئے سرگرم ہوگیا ہے ۔جنرل رائے چودھری نے الزام عائد کیا کہ کاہلی اور ہندوستانی معاشی شعبہ کی جانب سے سستی کی وجہ سے ہندوستان صنعتی شعبہ میں اور پیداوری محاذ پر چین سے پیچھے رہ گیا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان میں چینی اشیاء کی بھرمار کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تک کہ لارڈ گنیش کے مجسمے بھی چین میں تیار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی کوتاہی ہے جس نے تین طویل مدتی رویہ کو نظرانداز کیا ہے ۔ یہ شعبے ‘ تعاون ‘ مسابقت اور صف آرائی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کاہلی اور لالچ سے ہندوستانی معاشی شعبہ متاثر ہوا ہے چین کی وجہ سے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اچھے معیاری مصنوعات چین سے بھی زیادہ کم قیمت پر تیار کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی مصنوعات نے ہندوستانی مصنوعات کو شکست دے دی ہے اور ہندوستانی پیداواری شعبہ کو مستحکم بنانا ضروری ہے تاکہ وہ چین کے ساتھ مسابقت کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی معیشت مغربی معیشت پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور اس نے امریکہ اور یورپ کی ایشیاء میں نقالی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بحراوقیانوس ‘ بحرہند نہیں بن سکتا ۔ سابق مشیر قومی سلامتی نارائنن نے کہا کہ دنیا بہت کم دو سب سے بڑی آبادیوں کا بیک وقت ایک ہی علاقہ میں وجود دیکھ رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT