Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / ہندوستان کو ہند ۔پاک مذاکرات منسوخ نہیں کرنے چاہئے تھے

ہندوستان کو ہند ۔پاک مذاکرات منسوخ نہیں کرنے چاہئے تھے

اسلام آباد 28 نومبر (سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا کہ ہندوستان کو معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ نہیں کرنی چاہئے تھی اور اصرار کے ساتھ کہا کہ کشمیری قائدین سے ہند۔ پاک مذاکرات سے قبل مشاورت ’’کوئی نئی بات نہیں‘‘تھی ۔ وہ ماضی میں بھی ہند ۔ پاک مذاکرات کے انعقاد سے قبل کشمیری قائدین سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ یہ

اسلام آباد 28 نومبر (سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا کہ ہندوستان کو معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ نہیں کرنی چاہئے تھی اور اصرار کے ساتھ کہا کہ کشمیری قائدین سے ہند۔ پاک مذاکرات سے قبل مشاورت ’’کوئی نئی بات نہیں‘‘تھی ۔ وہ ماضی میں بھی ہند ۔ پاک مذاکرات کے انعقاد سے قبل کشمیری قائدین سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ہمیں ایک ایسے مسئلہ پر جو سب سے زیادہ اُن سے متعلق ہے کشمیری قائدین کی رائے حاصل کرنا ضرورت تھا ۔ نواز شریف نے 18 ویں سارک چوٹی کانفرنس سے کل وطن واپسی کے دوران طیارے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہائی کمشنر نے نئی دہلی میں کشمیری علحدگی پسندوں کے ساتھ جو بات چیت کی تھی اس کے نتیجہ میں ہندوستان نے معتمد خارجہ سجاتا سنگھ کے ستمبر میں دورہ پاکستان کو منسوخ کردیا تھا۔ اسی وقت سے دونوں ممالک نے اپنا یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ وہ بامعنی بات چیت کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ دوسرا فریق پہل کریں ۔ نواز شریف نے کہا کہ ہندوستان کو معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ نہیں کرنی چاہئے تھی کیونکہ اس سے ان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران اتفاق رائے ہوچکا تھا۔ روزنامہ دی نیوز کی اطلاع کے بموجب نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات ہوئی تھی ۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ بات چیت کا عمل جاری رہے تا کہ وقار ،عزت اور عزت نفس کے موقف کے ساتھ معاہدہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پر یقین رکھتے ہیں اور بہر قیمت ہمارا یقین برقرار رہے گا ۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیری تنازعہ کے بشمول تمام دیرینہ تنازعات کی ہندوستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ یکسوئی ہوجائے ان کا تبصرہ ہند۔ پاک تعلقات میں مختصر وقت کے لئے سرد مہری پیدا ہونے کے بعد منظر عام پر آیا ہے۔کل وزیر اعظم نے مسکراتے ہوئے وزیر اعظم ہند نریندر مودی سے مصافحہ کیا تھا اور دونوں قائدین کے درمیان نیک خواہشات کا تبادلہ عمل میںآیا تھا لیکن ہندوستان نے اس ’’خیر سگالی کے مظاہرے ‘‘ کے بہت زیادہ معنی اخذ نہ کرنے کی خواہش کی ہے ۔ سارک چوٹی کانفرنس کے اختتام سے کچھ وقت پہلے دونوں قائدین نے مصافحہ کیا اور دونوں ممالک کے وفد نے دیکھا کہ کھلے اجلاس کے دوران دونوں وزراء اعظم جنہوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا تھا ایک دوسرے کے ساتھ گرمجوشی کا مظاہرہ کررہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT