Friday , November 24 2017
Home / مضامین / ہندوستان کیلئے کون بہتر ہوگا ٹرمپ یا ہلاری ؟

ہندوستان کیلئے کون بہتر ہوگا ٹرمپ یا ہلاری ؟

جان سی برسیا

امریکہ اور ہندوستان کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے ان میں کونسا امریکی صدارتی امیدوار ڈیموکریٹ ہلاری کلنٹن یا ریپبلکن ڈونالڈ ٹرمپ بہتر ہوگا ؟ بعض گوشے ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کلنٹن کے حق میں ہیں کیونکہ ہلاری نے بحیثیت وزیر خارجہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ کئی ایک باہمی سفارتی معاملات کو سر انجام دیا ہے اس لئے ہندوستان کے ساتھ موثر تعلقات کلنٹن نظم و نسق کیلئے آسان ہوں گے ۔ دوسری جانب دیکھنا یہ ہوگا کہ ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان میں ممبئی تا پونے پیش آئے واقعات سے عالمی طور پر کس طرح نمٹتے ہیں۔ تاہم اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ ٹرمپ حکومت ہندوستان کے ساتھ معاشی استحکام کے تئیں اقدامات بروئے کار لائے گی۔
دونوں امیدواروں کے درمیان عمل میں آئے تفصیلی مباحث کے دوران ہند امریکی تعلقات کوکوئی قابل لحاظ ترجیح نہیں دی گئی ، کئی سیاسی تجزیہ نگاروں میں اور میڈیا کا تاثر ہے کہ دونوں امریکی امیدواروں نے اپنا زیادہ تر وقت غیر مناسب برتاؤ اور حساس ای میل کی نذر کردیا۔ امریکی صدارتی امیدواروں کے انتخاب پر مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ ماہر تعلیم ’محقق‘ ادیب و انٹرپرینور ویوک وادھوا اپنے حالیہ ای میل پیام میں ٹرمپ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں ٹرمپ ایک بغیر ڈرائیونگ کار کے ڈرائیور ہیں۔ وادھوا نے ٹرمپ کی جنونی انداز کے پیش نظر ان خدشات کااظہار کیا ہے  کہ ٹرمپ منتخب ہونے پر امریکہ میں نسلی عصبیت تعصب ، بیرونی افراد کے تئیں منفی رویہ اور جنسیات کو بڑھاوا ملے گا  اور  ملک میں جذباتی تقاریر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلے گا ۔ اس طرح ٹرمپ ہند۔ امریکہ بہتر تعلقات کے لئے ودھوا کی پسند نہیں ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں ان دونوں امریکی صدارتی امیدواروں کے تئیں دیگر کی کیا رائے ہے ؟ ایشین اسٹیڈیز سنٹر ہریٹیج فاؤنڈیشن واشنگٹن سی کے سینئر ریسرچ فیلو لیساکریٹس کا کہنا ہے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تعاون ابھرتے چین کے مقابل خطہ میں توازن پیدا کرے گا۔ ہند۔امریکہ تعلقات آزاد سمندری حدود کے ساتھ ایشیائی خطہ میں امن کا باعث ہوں گے ۔ کریٹس نے ہندوستان کو حالیہ طور پر ایک بڑے دفاعی شراکت قرار دیئے جانے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آیا وہ ڈونالڈ ٹرمپ ہویا ہلاری کلنٹن یہ دونوں ہند۔ امرے کہ تعلقات میں اضافہ بہتری کیلئے یقینی طور پر رضامند ہیں۔ تاہم کریٹس ہندوستان کی جانب سے کلنٹن کی تائید کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ، ہندوستان کے ساتھ ہلاری کا پرانا ساتھ ہے، انہوں نے 1995 ء میں ہندوستان کا دورہ اس وقت کیا جب وہ سنیٹ میں تھیں اورپھر بحیثیت سکریٹری آف اسٹیٹ ہند۔امریکہ مذاکرات حکمت عملی کو اپنایا۔ کریٹس کے خیال میں ہلاری ہندوستان کیلئے ایک معلوم شخصیت ہیں جبکہ ہندوستانیوں کی کثیر تعداد نے ہلاری کا بحیثیت صدارتی امیدوار خیرمقدم کیا ہے ۔ ریپبلکن امیدوار ٹرمپ پر تبصرہ کرتے ہوئے کریٹس کا کہنا ہے بیرونی باشندوں کو لیکر ٹرمپ کے بیانات سے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں میں قدرے الجھن ہے حالانکہ ہندوستان میں پاکستانی دہشت گردی سے نمٹنے میں ڈونالڈ ٹرمپ سے توقع  ضرور رکھتے ہیں کہ ٹرمپ حکومت دہشت گردی سے بہتر طریقے سے نمٹے گی ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایڈیسن میں ایک ریالی میں دہشت گردی سے نمٹنے کے خیالات کا اظہار کیا تھا ۔ اس ریالی کا ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ طور پر انعقاد عمل میں آیا تھا ۔ ٹرمپ نے کہا ان کے دورحکومت میں ہندوستان ، امریکہ ایک بہترین دوست ہوں گے اور ہمارے لئے اس سے زیادہ کچھ اور اہم نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ انٹلیجنس اقدامات میں ہندوستان کے کندھے سے کندھا ملاکر چلیں گے اور عوام کی حفاظت کریں گے ۔ امریکہ میں سرکاری خدمات انجام دینے والی شلپا دیشپانڈے فنزئی جوکہ ایک قانون داں ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کو طویل عرصہ سے نظر انداز کیا ہے ۔ شلپا کہتی ہیں ہندوستان کو علاقہ میں امریکہ کا حقیقی رفیق بننا چاہئے جبکہ ہندوستانی امریکیوں کی بڑی تعداد کو اس دن کا انتظار ہے، جب امریکہ ہندوستان کو دیگر ایشیائی ممالک جیسے جاپان کی طرح عزیز رکھے گا ۔ شلپا اس بات سے مایوس ہے کہ موجودہ صدارتی مہم کے دوران ہند۔امریکہ کے متعلق کئی اہم سفارتی موضوعات کو زیر بحث نہیں لایا گیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہلاری کلنٹن ہندوستان کیلئے بہتر صدر ثابت ہوں گی کیونکہ جو تعداد بحیثیت وزیر خارجہ امریکہ نے  اوباما حکومت کے دوران ہند۔امریکہ تعلقات کیلئے شروع کئے گئے تھے وہ انہیںجاری رکھ سکتی ہیں اور اس کی ہمت افزائی کرسکتی ہیں۔ ہلاری امریکہ میں مقیم ہندوستانی طبقہ کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں۔ شلپا کا دوسری جانب یہ کہنا ہے کہ کئی امریکی ہندوستانیوں میں ٹرمپ کے تئیں ایک خوف کا احساس پایا جاتا ہے کہ ٹرمپ کے انتخاب سے امریکہ میں نسلی عصبیت میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کا ہند۔امریکہ تعلقات پر منفی اثر بھی پڑسکتا ہے۔
امریکہ میں مقیم نوجوان ہندوستانی پراتیوش ایس گوردھن جو کہ یونیورسٹی آف سنٹرل فلوریڈا سے فیلوشپ کر رہے ہیں کے خیال میں ہلاری کلنٹن امریکی صدارتی انتخابات میں ہندوستان کے حق میں بہتر امیدوار ہیں کیونکہ ہلاری ہند۔امریکہ بہتر تعلقات کے تئیں سفارتی اقدامات کا ایک ریکارڈ رکھتی ہیں ۔ ہلاری نے ہند۔امریکی نیوکلیائی معاہدہ کی تائید کی اور کئی بار ہندوستان کے سفارتی دورے کیں۔ اس بنیاد پر ہند۔امریکہ کے درمیان مستقبل میں مثبت اور موثر تعلقات کے لئے ہلاری موزوں امیدوار ہیں ۔
اب جبکہ امریکی صدارتی انتخابات کیلئے چند ہفتہ باقی رہ گئے ہیں۔  ایسے میں ہلاری کلنٹن ڈیموکریٹک امیدوار اور ڈونالڈ ٹرمپ ریپبلکن امیدوار کیلئے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ دیگر بین الاقوامی موضوعات کے ساتھ ساتھ ہند۔امریکی تعلقات کے تئیں اپنی دلچسپی کا اظہار کریں۔ اس کے بغیر رائے دہندہ خصوص کر امریکہ میں مقیم  ہندوستانی رائے دہندوں کے لئے امیدوار کا انتخاب کا فیصلہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا اور دنیا کو امیدواروں کے خیالات کے بارے میں صرف قیاس آرائیوں پر تکیہ کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT