Monday , November 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ہندوستان کی آزادی کیلئے مسلمانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش

ہندوستان کی آزادی کیلئے مسلمانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش

گلبرگہ 18؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز):ـہندوستان میں آزادی کی جدوجہد ہندو اور مسلمانوں نے ملکرکی ہے جسکی بدولت آج ہم کو آزادی نصیب ہوئی۔ان خیالات کا اظہارسوامی سدا شیو جی صدر کتل بسویشور سکھشنا سمیتی سیڑم نے کیا وہ کل این جی او بھون سیڑم میں جمعیت علماء شاخ سیڑم کی جانب سے منعقدہ جلسہ بعنوان ’’تحریک آزادی اور تعمیرو وطن میں مسلمانوں کا کردار‘‘میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صدارت مولانا مفتی محمد افتخار احمد قاسمی صدر جمعیت علماء کرناٹک و ناظم مدرسہ تعلیم القرآن بنگلور نے کی،مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا غیاث احمد رشادی صدر صفا چیارٹیبل ایجوکیشن اینڈ ویلفیر ٹرسٹ انڈیا (حیدرآباد) ،معزز مہمانانِ ڈاکڑ شرن پرکاش پاٹل وزیر طبی تعلیم حکومت کرناٹک ،شری بسوراج پاٹل سیڑم رکن راجیہ سبھا ،مولانا شریف احمد مظہر ی نائب صدر جمعیت علماء کرناٹک (گلبرگہ)،مولانا عبدالوحید مفتاحی صدر شہری جمعیت علماء گلبرگہ،مولانا عبدالرزاق قاسمی ناظم مدرسہ دارالعلوم معاذابن جبل گلبرگہ،جناب حافظ سراج ضیائی امام و خطیب مسجد رحمن گلبرگہ، سرکل انسپکٹر سیڑم پنچاک شری میں شامل ہیں ۔سوامی سدا شیو جی نے مزیدکہا کہ جنگ آزادی میںمسلمانوں کا کردار کافی اہم تھااور تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار پر کوئی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی جدوجہد سے آج کی نوجوان نسل کو واقف کروانا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر میںفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے آزادی ہند میں مسلمانوں کی جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ سوامی جی نے مزید کہا کہ قرآن  شریف اس دنیا کیلئے امن و سلامتی سے زندگی گذارنے کا پیغام دیتا ہے اوراُنہوں نے جمعیت علماء شاخ سیڑم کے صدر مولانا یٰسین کو مبارکباد دی کہ انہوںنے جشن آزادی کے عنوان پر مسلمانوں کے کردار پر روشنی ڈالنے کاموقع عنایت فرمایا۔وہ اس کے لئے مولانا یسین کے وہاں موجود علماء کرام کے ممنون و مشکور ہیں ۔مولانا غیاث حیدرآباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو آزاد کروانے کی خاطر ہزاروں علماء کرام نے جام شہادت نوش فرمایا ،تب ہمیں آزادی نصیب ہوئی ۔انہوں نے مزید کہا کہ دکن کے بادشاہ نظام کے دورِ حکومت کا ایک واقعہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت نظام نے اپنے دور حکومت میں کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان میری یہ دو آنکھ ہیں ،مولانا نے کہا کہ ہندوستان پر مسلمانوں نے تقریباًنو سو سالوں تک حکومت کی ہے اُس دوران ایک بھی ہندو مسلم فساد کی تاریخ نہیں ملتی،سب مل جل کر اپنے اپنے تہوار ایک ساتھ منایا کرتے تھے،اور مسلمانوںکے900سالہ دورِ اقتدار میں مذہب کی کھلی آزادی تھی ۔صدر جلسہ افتخار احمد بنگلور نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آزادی تو ہمیںوراثت میں ملی ہے آزادی کا مزہ اُن سے پوچھو جس نے جیل کی صعوبتیں برداشت کی انگریزوں کے ظلم کوبرداشت کیا۔285 سالوں تک مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا جسکے نتیجے میں لاکھوں علماء کرام کو پھانسی پر ایک ہی دن لٹکایا گیا تاریخ کے اوراق کا صحیح سے مطالعہ کیاجائے تو اس کی حقیقت معلوم ہوسکتی ہے۔دیوبند کے علماء کرام نے سارے ملک کے علماء کرام کو مدعو کرتے ہوئے یہ فیصلہ لیا کہ اب ہندوستان کو آزادی دلوانے کیلئے ہندو مسلم کوملکر لڑنے کی ضرورت ہے جسکی وجہہ سے 1885 میں کانگریس کا وجود ہوا جس میں سب ملکر اتفاق رائیسے موہن داس کرم چند گاندھی کو آگے کیا پھر مسلمانوں کے فنڈ سے گاندھی جی کو ملک کا دورہ کروایا تب جاکر 1947 ء کو ملک آزاد ہوا،مولانا نے فرمایا کہ ملک کی تاریخ 1799 ء سے نہیں لکھی گئی ہے جسکی وجہہ سے آزادی ملک کے اصل ہیرو کا اس میں ذکر تک نہیں ہے آزادی کیلئے ہمارے علماء دین نے اپنی جان مال اپنے بچوں کو تک ملک کی آزادی کی خاطر شہید کردیا چند فرقہ پرست عناصر نے آزادی کی جدوجہد کو صرف 1885 ء کے ریکاڈ سے ہی منسلک کردیا ہے،مولانا نے کہا کہ آج بھی چند مٹھی بھر فرقہ پرست عناصر ملک کو پھر سے غلام بنانے کی سازش کر رہے ہیں ہم سیکولر ہندو مسلم بھائیوں کو مل کر انکے خلاف اعلان جنگ کرنے کی ضرورت ہے،ملک کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے ،پھر سے وہی انگریزوں کی چال رچی جارہی ہے ہمارے مساجد پر کہیں خنزیریں ڈالی جاتی ہے تو کہیں مندروں میں گوشت ڈالا جاتا ہے ٹھیک اُسی طرح جیسے انگریز کیا کرتے تھے جسکی وجہہ سے ہندو مسلم اتحاد ٹوٹ جائے فساد برپا ہوجائے ،مولانا نے کہا یہ سب سیاسی کھیل ہے اسکو ہم سب کوملکر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے ہمارا ملک گنگاجمنی تہذیب کا نمونہ ہے اور ملک کی ترقی کو آگے لے جانا ہے تو اس تہذیب کو مزید مستحکم کرنا ہوگا،ہمارے ملک کا جو دستور ہے کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے مذہب کو بھلا برُا کہے۔حافظ سراج  نے کنڑا میں خطاب کیا مولانا محمد شریف احمد مظہری کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا،سیڑم شہر کے ہندو مسلم بھائیوں کی کثیرتعداد این جی او بھون میں موجود تھی جس میں کانگریس پارٹی کے تعلقہ صدر ناگیشوار راؤ مالی پاٹل،رکن اسمبلی کے بھائی بسواج پاٹل اُڈگی،جگناتھ ترنلی ایڈیٹر کنڑا گروڈے،منوہر دنتا،ویند ر ردنور، ڈاکڑ رامیش آئناپور،سید ناظم الدین چیرمین اے پی ایمسی،عبدلغفور صدر اقلیتی سیل سیڑم،عبدلمجید خان جنرل سکریٹری مسلم ویلفیر اسو سی ایشن،مختار احمد جانباز ملک بھارت فگشن ہال،محمد غوث رکن مسلم ویلفئر سیڑم،محمد عزیر خان صدر تعمیر ملت سیڑم،کے علاوہ کئی سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT